مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الصَّلَاةِ] ‹ بَابُ الْإِمَامَةِ] · حديث 2326
2326 - وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ: أَنَّ سَالِمًا مَوْلَى أَبِي حُذَيْفَةَ كَانَ يَؤُمُّ الْمُهَاجِرِينَ حِينَ قَدِمُوا إِلَى الْمَدِينَةِ وَفِيهِمْ عُمَرُ وَغَيْرُهُ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ؛ لِأَنَّهُ كَانَ أَكْثَرَهُمْ قُرْآنًا. قُلْتُ: هُوَ فِي الصَّحِيحِ خَلَا قَوْلَهُ: لِأَنَّهُ كَانَ أَكْثَرَهُمْ قُرْآنًا. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَفِيهِ: شُعَيْبُ بْنُ أَبِي الْأَشْعَثِ قَالَ الذَّهَبِيُّ: مَجْهُولٌ، قُلْتُ: شُعَيْبٌ هَذَا ذَكَرَهُ ابْنُ حِبَّانَ فِي الثِّقَاتِ، وَقَالَ: يُعْتَبَرُ بِحَدِيثِهِ إِذَا لَمْ يَكُنْ فِي إِسْنَادِهِ ضَعِيفٌ وَلَا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ.
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: حضرت ابو حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے غلام سالم رضی اللہ تعالیٰ عنہ مہاجرین کی امامت کیا کرتے تھے جب وہ لوگ مدینہ منورہ آئے تھے اس لوگوں میں حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی شامل تھے، اور دیگر مہاجرین بھی شامل تھے اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ سب سے زیادہ قرآن جانتے تھے(یعنی قرآن کی زیادہ آیات کے حافظ تھے)۔ (علامہ ہیثمی فرماتے ہیں:) میں یہ کہتا ہوں: یہ روایت "صحیح" میں منقول ہے، تاہم اس میں یہ الفاظ نہیں ہیں "اس کی وجہ یہ ہے کہ انہیں سب سے زیادہ قرآن آتا تھا"۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی شعیب بن اشعث ہے امام ذہبی فرماتے ہیں: یہ مجہول ہے میں یہ کہتا ہوں: شعیب نامی اس راوی کا ذکر ابن حبان نے کتاب "الثقات" میں کیا ہے، اور یہ بات بیان کی ہے، اس کی نقل کردہ حدیث کا اعتبار کیا جائے گا جب کہ اس کی سند میں کوئی ضعیف راوی نہ ہو اور بقیہ بن ولید ہو۔
يُعْتَبَرُ بِحَدِيثِهِ إِذَا لَمْ يَكُنْ فِي إِسْنَادِهِ ضَعِيفٌ وَلَا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ. ← الذَّهَبِيُّ: مَجْهُولٌ، قُلْتُ: شُعَيْبٌ هَذَا ذَكَرَهُ ابْنُ حِبَّانَ فِي الثِّقَاتِ، ← فِيهِ: شُعَيْبُ بْنُ أَبِي الْأَشْعَثِ
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [prayer book] › Door of the Imamate] · Hadith 2326
