مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الصَّلَاةِ] ‹ بَابُ فَضْلِ الصَّلَاةِ وَحَقْنِهَا لِلدَّمِ] · حديث 1654
1654 - وَعَنْ أَبِي الرَّصَافَةِ رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ الشَّامِ مِنْ بَاهِلَةَ أَعْرَابِيٍّ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " «مَا مِنَ امْرِئٍ مُسْلِمٍ تَحْضُرُهُ صَلَاةٌ مَكْتُوبَةٌ، فَيَقُومُ فَيَتَوَضَّأُ فَيُحْسِنُ الْوُضُوءَ، وَيُصَلِّي فَيُحْسِنُ الصَّلَاةَ - إِلَّا غُفِرَ لَهُ مَا بَيَّنَهَا وَبَيْنَ الصَّلَاةِ كَانَتْ قَبْلَهَا مِنْ ذُنُوبِهِ» ". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَأَبُو الرَّصَافَةِ لَمْ أَرَ فِيهِ جَرْحًا وَلَا تَعْدِيلًا.
ابو رصافہ ، جن کا تعلق اہل شام سے ہے، اور وہ باہلہ قبیلے سے تعلق رکھنے والے ایک دیہاتی ہیں ، انہوں نے حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ فرمان نقل کیا ہے: " جس بھی مسلمان شخص کے سامنے فرض نماز کا وقت آ جائے ، اور وہ اٹھ کر وضو کرے اور وہ اچھی طرح وضو کرے ، اور نماز ادا کرے تو اچھی طرح نماز ادا کرے ، اس شخص کے اس نماز اور اس سے پہلے والی نماز کے درمیان کے گناہوں کی مغفرت ہو جاتی ہے"۔ یہ روایت امام احمد نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، ابو رصافہ نامی راوی کے بارے میں ، میں نے کوئی جرح یا کوئی تعدیل نہیں دیکھی ہے۔
اَبِیْ اُمَامَۃَ، ← وَعَنْ أَبِي الرَّصَافَةِ رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ الشَّامِ مِنْ بَاهِلَةَ أَعْرَابِيٍّ،
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [prayer book] › Chapter on the merit of prayer and its injection into blood] · Hadith 1654
