مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الصَّلَاةِ] ‹ بَابُ فَضْلِ الصَّلَاةِ وَحَقْنِهَا لِلدَّمِ] · حديث 1642
1642 - وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: «لَمَّا أُصِيبَ عِتْبَانُ بْنُ مَالِكٍ فِي بَصَرِهِ بَعَثَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنِّي أُحِبُّ أَنْ تَأْتِيَنِي فَتُصَلِّيَ فِي بَيْتِي وَتَدْعُوَ لَنَا بِالْبَرَكَةِ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي نَفَرٍ مِنْ أَصْحَابِهِ فَدَخَلُوا عَلَيْهِ فَتَحَدَّثُوا بَيْنَهُمْ، فَذَكَرُوا مَالِكَ بْنَ الدُّخْشُمِ، فَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، ذَاكَ كَهْفُ الْمُنَافِقِينَ وَمَأْوَاهُمْ، فَأَكْثَرُوا فِيهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَوْلَيْسَ يُصَلِّي؟ " قَالُوا: نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ، صَلَاةٌ لَا خَيْرَ فِيهَا. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " نُهِيتُ عَنْ قَتْلِ الْمُصَلِّينَ " - مَرَّتَيْنِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ عَامِرُ بْنُ يَسَافٍ، وَهُوَ مُنْكَرُ الْحَدِيثِ.
حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب حضرت عتبان بن مالک رضی اللہ عنہ کی بینائی کمزور ہو گئی ، تو انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں پیغام بھیجا ، مجھے یہ بات پسند ہے کہ آپ میرے ہاں تشریف لائیں ، اور میرے گھر میں نماز ادا کریں ، اور میرے لیے برکت کی دعا کریں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنے کچھ اصحاب سمیت تشریف لے گئے ، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ان کے ہاں گئے وہ لوگ آپس میں بات چیت کرتے رہے ، ان لوگوں نے مالک بن دخشم کا ذکر کیا ، تو ایک شخص بولا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! وہ منافقین کی پناہ گاہ اور ان کا ٹھکانہ ہے، ان لوگوں کا اس کے ساتھ بڑا تعلق ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کیا وہ نماز ادا نہیں کرتا ہے؟ لوگوں نے عرض کی : جی ہاں ! یارسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! وہ ایسی نماز ادا کرتا ہے، جس میں کوئی بھلائی نہیں ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: مجھے نمازیوں کو قتل کرنے سے منع کیا گیا ہے، یہ بات آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دو مرتبہ ارشاد فرمائی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی عامر بن یساف ہے، اور وہ منکر الحدیث ہے ۔
أَنَسٍ،
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [prayer book] › Chapter on the merit of prayer and its injection into blood] · Hadith 1642
