مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الصَّلَاةِ] ‹ بَابٌ فِي صَلَاةِ الْعِشَاءِ الْآخِرَةِ وَالصُّبْحِ فِي جَمَاعَةٍ] · حديث 2146
2146 - وَعَنْ أَبِي عُمَيْرِ بْنِ أَنَسٍ عَنْ عُمُومَةٍ لَهُ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ قَالَ: «لَا يَشْهَدُهُمَا مُنَافِقٌ "، يَعْنِي صَلَاةَ الصُّبْحِ وَالْعَشَاءِ» قَالَ أَبُو بِشْرٍ: يَعْنِي لَا يُوَاظِبُ عَلَيْهِمَا. رَوَاهُ أَحْمَدُ وَفِيهِ أَبُو عُمَيْرِ بْنُ أَنَسٍ وَلَمْ أَرَ أَحَدًا رَوَى عَنْهُ غَيْرُ أَبِي بَشِيرٍ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي وَحْشِيَّةَ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ مُوَثَّقُونَ.
ابو عمیر بن انس نے اپنے چچاؤں کے حوالے سے ، جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اصحاب میں سے ہیں ، یہ بات نقل کی ہے : آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ان دونوں ( یعنی عشاء کی باجماعت نمازوں ) میں کوئی منافق شریک نہیں ہوگا۔ راوی بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مراد عشاء اور صبح کی نمازیں تھیں ابو بشر کہتے ہیں : اس سے مراد یہ ہے کہ وہ ان دونوں کو باقاعدگی سے ادا نہیں کرے گا۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابو عمیر بن انس ہے ابو بشیر جعفر بن ابو وحشیہ کے علاوہ اور کسی کو میں نے اس راوی سے روایت نقل کرتے ہوئے نہیں دیکھا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
لَا يَشْهَدُهُمَا مُنَافِقٌ يَعْنِي صَلَاةَ الصُّبْحِ وَالْعِشَاءِ ← عُمُومَةٍ لَهُ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ أَنَّهُ ← أَبِي عُمَيْرِ بْنِ أَنَسٍ
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [prayer book] › Chapter in the Last Supper and the Morning in a Congregation] · Hadith 2146
