مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الصَّلَاةِ] ‹ بَابٌ فِيمَنْ أَكَلَ ثُومًا أَوْ نَحْوَهُ ثُمَّ أَتَى الْمَسْجِدَ] · حديث 1990
1990 - وَعَنْ جَابِرٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: " «مَنْ أَكَلَ مِنْ هَذِهِ الْخَضْرَاوَاتِ الثُّومِ وَالْبَصَلِ وَالْكُرَّاثِ وَالْفُجْلِ فَلَا يَقْرَبَنَّ مَسْجِدَنَا؛ فَإِنَّ الْمَلَائِكَةَ تَتَأَذَّى مِمَّا يَتَأَذَّى مِنْهُ بَنُو آدَمَ» ". قُلْتُ: هُوَ فِي الصَّحِيحِ خَلَا قَوْلَهُ: " وَالْفُجْلِ ". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ رَاشِدٍ الْبَرَاءُ الْبَصْرِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ وَوَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَقَالَ: يُخْطِئُ وَيُخَالِفُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.
حضرت جابر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : " جو شخص ان سبزیوں لہسن پیاز ، گندنہ ، اور فجل ( شاید اس سے مراد چقندر ہے ) کو کھا لے وہ ہماری مسجد کے قریب ہر گز نہ آئے کیونکہ جس چیز سے انسانوں کو اذیت ہوتی ہے فرشتوں کو بھی اس سے اذیت ہوتی ہے " ۔ میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت " صحیح " میں منقول ہے ، تاہم اس میں یہ الفاظ نہیں ہیں : " فجل "۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یحییٰ بن راشد البراء بصری ہے ، اور وہ " ضعیف " ہے ابن حبان نے اسے " ثقہ " قرار دیا ہے ، وہ یہ فرماتے ہیں : یہ غلطی بھی کرتا ہے ، اور ( دوسروں کے ) برخلاف بھی نقل کرتا ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال " ثقہ " ہیں۔
جَابِرٍ
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [prayer book] › Chapter on those who ate garlic or something similar and then came to the mosque] · Hadith 1990
