مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الصَّلَاةِ] ‹ بَابُ مَا جَاءَ فِي الْقِبْلَةِ] · حديث 1978
1978 - «وَعَنْ تَوِيلَةَ بِنْتِ مُسْلِمٍ قَالَتْ: صَلَّيْنَا الظُّهْرَ أَوِ الْعَصْرَ فِي مَسْجِدِ بَنِي حَارِثَةَ فَاسْتَقْبَلْنَا مَسْجِدَ إِيلِيَاءَ فَصَلَّيْنَا رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ جَاءَنَا مَنْ يُحَدِّثُنَا: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَدِ اسْتَقْبَلَ الْبَيْتَ الْحَرَامَ، فَتَحَوَّلُ الرِّجَالُ مَكَانَ النِّسَاءِ وَالنِّسَاءُ مَكَانَ الرِّجَالِ فَصَلَّيْنَا السَّجْدَتَيْنِ الْبَاقِيَتَيْنِ وَنَحْنُ مُسْتَقْبِلُو الْبَيْتَ الْحَرَامَ، فَحَدَّثَنِي رَجُلٌ مِنْ بَنِي حَارِثَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: " أُولَئِكَ رِجَالٌ آمَنُوا بِالْغَيْبِ» ". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ إِسْحَاقُ بْنُ إِدْرِيسَ الْأَسْوَارِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ مَتْرُوكٌ.
سیدہ تویلہ بنت مسلم رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : ہم نے بنو حارثہ کی مسجد میں ظہر یا عصر کی نماز ادا کی ہم نے مسجد ایلیاء کی طرف رخ کیا ہوا تھا ہم دو رکعت ادا کر چکے تھے اسی دوران ایک شخص ہمارے پاس آیا جس نے ہمیں یہ بتایا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بیت الحرام کی طرف رخ کر لیا ہے ، تو مرد گھوم کو عورتو ں کی جگہ پر آ گئے اور عورتیں مردوں کی جگہ چلی گئیں ہم نے باقی کی دو رکعت بیت الحرام کی طرف رخ کرکے ادا کر لیں۔ بنو حارثہ سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے مجھے یہ بات بتائی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہ ارشاد فرمایا: کہ یہ وہ لوگ ہیں جو غیب پر ایمان رکھتے ہیں۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی اسحاق بن ادریس اسواری ہے جو ضعیف اور متروک ہے ۔
تَوِيلَةَ بِنْتِ مُسْلِمٍ
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [prayer book] › Chapter of what came in the qiblah] · Hadith 1978
