مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الصَّلَاةِ] ‹ بَابُ إِجَابَةِ الْمُؤَذِّنِ، وَمَا يَقُولُ عِنْدَ الْأَذَانِ وَالْإِقَامَةِ] · حديث 1882
1882 - وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَقُولُ حِينَ يَسْمَعُ النِّدَاءَ، يُكَبِّرُ وَيُكَبِّرُ، وَيَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَيَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، ثُمَّ يَقُولُ: اللَّهُمَّ أَعْطِ مُحَمَّدًا الْوَسِيلَةَ وَالْفَضِيلَةَ، وَاجْعَلْ فِي الْأَعْلَيْنَ دَرَجَتَهُ، وَفِي الْمُصْطَفَيْنَ مَحَبَّتَهُ، وَفِي الْمُقَرَّبِينَ ذِكْرَهُ - إِلَّا وَجَبَتْ لَهُ الشَّفَاعَةُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ» ". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ.
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : " جو بھی مسلمان اذان سننے کے دوران جب مؤذن تکبیر کہے تو وہ بھی تکبیر کہے ، جب وہ اس بات کی گواہی دے کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، اس بات کی گواہی دے کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ کے رسول ہیں ( تو سننے والا بھی یہی کلمات پڑھے ) اور پھر وہ یہ دعا مانگے : " اے اللہ ! تو حضرت محمد کو وسیلہ اور فضیلت عطا فرما اور " اعلین " میں ان کے درجات بنا دے اور برگزیدہ بندوں میں ان کی محبت رکھ دے اور مقرب لوگوں میں ان کا ذکر رکھ دے"۔ ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں : ) تو قیامت کے دن اس شخس کے لئے شفاعت واجب ہو جائے گی"۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [prayer book] › Chapter on answering the muezzin, and what he says at the adhaan and iqaamah] · Hadith 1882
