مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الصَّلَاةِ] ‹ بَابُ كَيْفَ الْأَذَانُ] · حديث 1858
1858 - وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: «جَاءَ بِلَالٌ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُؤْذِنُهُ بِصَلَاةِ الصُّبْحِ فَقَالَ: " مُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ "، فَعَادَ إِلَيْهِ فَرَأَى مِنْهُ ثِقْلَةً، فَقَالَ: " مُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ "، فَذَهَبَ فَأَذَّنَ، فَزَادَ فِي أَذَانِهِ: " الصَّلَاةُ خَيْرٌ مِنَ النَّوْمِ "، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: " مَا هَذَا الَّذِي زِدْتَ فِي أَذَانِكَ؟ " قَالَ: رَأَيْتُ مِنْكَ ثِقْلَةً فَأَحْبَبْتُ أَنْ تَنْشَطَ، فَقَالَ: " اذْهَبْ فَزِدْهُ فِي أَذَانِكَ، وَمُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ» ". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ قُسَيْطٍ، وَلَمْ أَجِدْ مَنْ ذَكَرَهُ.
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : حضرت بلال رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں آپ کو صبح کی نماز کے لئے بلانے آئے تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : ابوبکر کو کہو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھا دے وہ واپس آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے انہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی طبیعت کی خرابی کا اندازہ ہوا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم ابو بکر سے کہو کہ لوگوں کو نماز پڑھا دے وہ گئے انہوں نے اذان دی اور اذان میں یہ کلمات زائد ادا کئے نماز نیند سے بہتر ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان سے دریافت کیا: تم نے اپنی اذان میں یہ کیا کلمات زائد کئے ہیں تو انہوں نے عرض کی : میں نے آپ کو دیکھا کہ آپ کی طبیعت بوجھل ہے، تو مجھے یہ اچھا لگا کہ ہشاش بشاش ہو جائیں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا تم جاؤ اور اس کو اپنی اذان میں اضافہ کر دو اور ابو بکر سے کہو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھا دے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمٰن بن قسیط ہے میں نے کسی کو اس کا ذکر کرتے ہوئے نہیں پایا ہے۔
رَأَيْتُ مِنْكَ ثِقْلَةً فَأَحْبَبْتُ ← لَهُ النَّبِيُّ «مَا هَذَا الَّذِي زِدْتَ فِي أَذَانِكَ؟» ← «مُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ» فَذَهَبَ فَأَذَّنَ، فَزَادَ فِي أَذَانِهِ: الصَّلَاةُ خَيْرٌ مِنَ النَّوْمِ، ← «مُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ» فَعَادَ إِلَيْهِ، فَرَأَى مِنْهُ ثِقْلَةً ← جَاءَ بِلَالٌ إِلَى النَّبِيِّ يُؤْذِنُهُ بِصَلَاةِ الصُّبْحِ، ← أَبِي هُرَيْرَةَ،
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [prayer book] › Chapter of Azan] · Hadith 1858
