مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الصَّلَاةِ] ‹ بَابٌ فِيمَنْ يُؤَخِّرُ الصَّلَاةَ عَنِ الْوَقْتِ] · حديث 1822
1822 - وَعَنِ ابْنِ امْرَأَةِ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ: «كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: " إِنَّهَا سَتَجِيءُ أُمَرَاءُ تَشْغَلُهُمْ أَشْيَاءُ حَتَّى لَا يُصَلُّونَ الصَّلَاةَ لِمِيقَاتِهَا ". قُلْنَا: فَمَا تَرَى يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالُوا: " صَلُّوا الصَّلَاةَ لِوَقْتِهَا، فَإِنْ أَدْرَكْتُمُوهَا مَعَهُمْ فَاجْعَلُوا صَلَاتَكُمْ مَعَهُمْ سُبْحَةً» ". هَذَا لَفْظُ الطَّبَرَانِيِّ فِي الْكَبِيرِ، وَرَوَاهُ أَحْمَدُ وَتَرْجَمَ لَهُ فَقَالَ: حَدِيثُ أَبِي أُبَيٍّ وَذَكَرَ لَهُ هَذَا الْحَدِيثَ، وَقَدْ رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَغَيْرُهُ عَنْهُ عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ وَلِأَبِي أَبِيٍّ صُحْبَةٌ. فَاللَّهُ أَعْلَمُ. وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کی اہلیہ کے صاحبزادے بیان کرتے ہیں : ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس موجود تھے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : عنقریب ایسے حکمران آئیں گے کہ کچھ چیزیں انہیں مصروف رکھیں گی یہاں تک کہ وہ لوگ نماز اس کے مخصوص وقت پر ادا نہیں کریں گے ، راوی کہتے ہیں : ہم نے عرض کی : یارسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! تو اس بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم لوگ نماز کو اس کے مخصوص وقت پر ادا کر لینا اگر تم ان حکمرانوں کے ساتھ اس نماز کو پاؤ تو ان کے ساتھ ادا کی جانے والی اپنی نماز کو نفل قرار دے دینا۔ روایت کے یہ الفاظ امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کئے ہیں : اسے امام احمد نے بھی روایت کیا ہے انہوں نے اس کے حالات بھی بیان کئے ہیں ، اور یہ بات بیان کی ہے یہ ابو ابی کی نقل کردہ حدیث ہے انہوں نے اس راوی کے حوالے سے یہ حدیث ذکر کی ہے یہی روایت امام ابو داؤد نے اور دیگر حضرات نے ان کے حوالے سے حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے نقل کی ہے ۔ حضرت ابوابی رضی اللہ عنہ کو صحابی ہونے کا شرف حاصل ہے باقی اللہ بہتر جانتا ہے ، اس روایت کے رجال " صحیح " کے رجال ہیں ۔
كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ ← ابْنِ امْرَأَةِ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [prayer book] › Chapter on who delays prayer from the time] · Hadith 1822
