مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الصَّلَاةِ] ‹ بَابُ وَقْتِ الْعِشَاءِ الْآخِرَةِ] · حديث 1750
1750 - وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ «أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَخَّرَ صَلَاةَ الْعِشَاءِ حَتَّى انْقَلَبَ أَهْلُ الْمَسْجِدِ إِلَّا عُثْمَانَ بْنَ مَظْعُونٍ وَنَفَرًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَمْسَةَ عَشَرَ رَجُلًا أَوْ سِتَّةَ عَشَرَ مَا بَلَغُوا سَبْعَةَ عَشَرَ، فَقَالَ عُثْمَانُ: لَا أَخْرُجُ اللَّيْلَةَ حَتَّى يَخْرُجَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأُصَلِّيَ مَعَهُ وَأَعْلَمَ مَا أَمْرُهُ، فَخَرَجَ النَّبِيُّ قَرِيبًا مِنْ ثُلُثِ اللَّيْلِ وَمَعَهُ بِلَالٌ، فَلَمْ يَرَ فِي الْمَسْجِدِ أَحَدًا إِذْ سَمِعَ نَغْمَةً مِنْ كَلَامِهِمْ فِي نَاحِيَةِ الْمَسْجِدِ، فَمَشَى إِلَيْهِمْ حَتَّى سَلَّمَ عَلَيْهِمْ فَقَالَ: " مَا يَحْبِسُكُمْ هَذِهِ السَّاعَةَ؟ " قَالُوا: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، انْتَظَرْنَاكَ لِنَشْهَدَ الصَّلَاةَ مَعَكَ، فَقَالَ لَهُمْ: " مَا صَلَّى صَلَاتَكُمْ هَذِهِ أُمَّةٌ قَطُّ قَبْلَكُمْ، وَمَا زِلْتُمْ فِي صَلَاةٍ بَعْدُ "، ثُمَّ قَالَ: " إِنَّ النُّجُومَ أَمَانُ السَّمَاءِ، فَإِذَا طُمِسَتِ النُّجُومُ أَتَى أَهْلَ السَّمَاءِ مَا يُوعَدُونَ، وَإِنِّي أَمَانٌ لِأَصْحَابِي، فَإِذَا ذَهَبَتْ أَتَى أَصْحَابِي مَا يُوعَدُونَ. وَأَصْحَابِي أَمَانٌ لِأُمَّتِي، فَإِذَا ذَهَبَ أَصْحَابِي أَتَى أُمَّتِي مَا يُوعَدُونَ» ". قُلْتُ: لَهُ حَدِيثٌ فِي الصَّحِيحِ فِي تَأْخِيرِ الْعِشَاءِ غَيْرُ هَذَا. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ.
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عشاء کی نماز مؤخر کی یہاں تک کہ مسجد میں موجود افراد واپس چلے گئے صرف حضرت عثمان مظعون رضی اللہ عنہ اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کچھ اصحاب جن کی تعداد پندرہ یا سولہ تھی، سترہ نہیں تھی، وہ رہ گئے تو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا میں آج رات مسجد سے باہر نہیں جاؤں گا جب تک نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف نہیں لے آتے اور میں آپ کی اقتداء میں نماز ادا نہیں کر لیتا اور میں یہ بات جان لیتا کہ آپ نے مسجد میں کسی شخص کو نہیں دیکھا اسی دوران مسجد کے گوشے سے ان افراد کی آواز سنائی دی تو آپ چلتے ہوئے ان کے پاس تشریف لائے آپ نے انہیں سلام کیا اور دریافت کیا: تم لوگ اس وقت تک کیوں رکے ہوئے ہو؟ انہوں نے عرض کی: اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہم آپ کا انتظار کر رہے ہیں ، تاکہ آپ کی اقتداء میں نماز میں شریک ہوں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تمہاری یہ نماز تم سے پہلے کسی امت نے ادا نہیں کی ، اور تم مسلسل نماز کی حالت میں شمار ہوئے ہو پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ستارے آسمان کی امان ہیں جب ستارے بجھ جائیں گے، تو اہل آسمان پر وہ چیز آ جائے گی، جس کا ان کے ساتھ وعدہ کیا گیا ہے، میں اپنے اصحاب کی امام ہوں جب میں رخصت ہو جاؤں گا، تو میرے اصحاب پروہ صورت حال آ جائے گی کہ جس کا ان کے ساتھ وعدہ کیا گیا ہے، اور میرے اصحاب میری امت کے لئے امام ہیں جب میرے اصحاب رخصت ہو جائیں گے، تو میری امت پر وہ چیز آ جائے گی، جس کا ان کے ساتھ وعدہ کیا گیا ہے۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) ان صحابی کے حوالے سے " صحیح " میں بھی ایک حدیث منقول ہے، جو عشا ء کی نماز تاخیر سے ادا کرنے کے بارے میں ہے، لیکن وہ اس روایت کے علاوہ ہے۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے۔
ابْنِ عَبَّاسٍ،
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [prayer book] › Chapter of the Time for the Last Supper] · Hadith 1750
