مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الصَّلَاةِ] ‹ بَابُ الْخُطْبَةِ وَالْقِرَاءَةِ فِيهَا] · حديث 3154
3154 - وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ إِذَا قَعَدَ: إِنَّكُمْ فِي مَمَرِّ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ فِي آجَالٍ مَنْقُوضَةٍ وَأَعْمَالٍ مَحْفُوظَةٍ، وَالْمَوْتُ يَأْتِي بَغْتَةً، فَمَنْ زَرَعَ خَيْرًا يُوشِكُ أَنْ يَحْصُدَ رَغْبَةً، وَمَنْ زَرَعَ شَرًّا يُوشِكُ أَنْ يَحْصُدَ نَدَامَةً، وَلِكُلِّ زَارِعٍ مَا زَرَعَ، لَا يَسْبِقُ بَطِيءٌ بِحَظِّهِ وَلَا يُدْرِكُ حَرِيصٌ بِحِرْصِهِ مَا لَمْ يُقَدَّرْ لَهُ، فَمَنْ أُعْطِيَ خَيْرًا فَاللَّهُ أَعْطَاهُ، وَمَنْ وُقِيَ شَرًّا فَاللَّهُ وَقَاهُ، الْمُتَّقُونَ سَادَةٌ، وَالْفُقَهَاءُ قَادَةٌ، وَمُجَالَسَتُهُمْ زِيَادَةٌ " رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے ' جب وہ تشریف فرما ہوتے تھے تو یہ فرماتے تھے: تم لوگ ایک ایسی صورت حال میں ہو ' جس میں رات اور دن گزر رہے ہیں جو ایک مخصوص کے بعد ختم ہو جائیں گے اور اعمال کی حفاظت کی جا رہی ہے موت اچانک آ جائے گی ' جس شخص نے بھلائی بوئی ہو گی وہ عنقریب رغبت رکھتے ہوئے اسے کاشت کر لے گا' اور جس شخص نے برائی بوئی ہو گی وہ عنقریب ندامت کا شکار ہو کر اسے کاشت کرے گا ہر بونے والے نے جو بویا ہے وہی ملے گا ' اور سستی والا اپنے حصے کے حوالے سے سبقت نہیں لے جا سکتا اور حرص رکھنے والا اپنے حرص کے ذریعے اس چیز تک نہیں پہنچ سکتا جو اس کے نصیب میں نہ ہو ' جس شخص کو بھلائی عطا کی گئی ہو گی تو اللہ تعالیٰ نے ہی اسے عطا کی ہو گی ' اور جو شخص برائی سے بچایا گیا ہو گا ' تو اللہ تعالیٰ نے ہی اسے بچایا ہو گا پرہیز گار لوگ سردار ہیں فقہاء قیادت کرنے والے ہیں اور ان کی ہمنشینی (علم میں) اضافے کا باعث ہو تی ہے''۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے۔
عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ أَنَّهُ كَانَ
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [prayer book] › Chapter on engagement and recitation in it] · Hadith 3154
