مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الصَّلَاةِ] ‹ باب · حديث 2806
2806 - وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - «إِذَا كَانَ فِي صَلَاتِهِ رَفَعَ يَدَيْهِ قُبَالَةَ أُذُنَيْهِ، فَإِذَا كَبَّرَ أَرْسَلَهُمَا ثُمَّ سَكَتَ وَرُبَّمَا رَأَيْتُهُ يَضَعُ يَمِينَهُ عَلَى يَسَارِهِ، فَإِذَا فَرَغَ مِنْ فَاتِحَةِ الْكِتَابِ سَكَتَ فَإِذَا خَتَمَ السُّورَةَ سَكَتَ، ثُمَّ يَرْفَعُ يَدَيْهِ قُبَالَةَ أُذُنَيْهِ ثُمَّ يُكَبِّرُ وَيَرْكَعُ، وَكُنَّا لَا نَرْكَعُ حَتَّى نَرَاهُ رَاكِعًا ثُمَّ يَسْتَوِي قَائِمًا مِنْ رُكُوعِهِ حَتَّى يَأْخُذَ كُلُّ عُضْوٍ مَكَانَهُ، ثُمَّ يَرْفَعُ يَدَيْهِ قُبَالَةَ أُذُنَيْهِ ثُمَّ يُكَبِّرُ وَيَخِرُّ سَاجِدًا، وَكَانَ يُمَكِّنُ جَبْهَتَهُ وَأَنْفَهُ مِنَ الْأَرْضِ ثُمَّ يَقُومُ كَأَنَّهُ السَّهْمُ لَا يَعْتَمِدُ عَلَى يَدَيْهِ، وَكَانَ إِذَا جَلَسَ فِي آخِرِ صَلَاتِهِ اعْتَمَدَ عَلَى فَخِذِهِ الْيُسْرَى وَيَدِهِ الْيُمْنَى عَلَى فَخْذِهِ الْيُمْنَى وَيُشِيرُ بِإِصْبَعِهِ إِذَا دَعَا وَكَانَ إِذَا سَلَّمَ أَسْرَعَ الْقِيَامَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَفِيهِ الْخَصِيبُ بْنُ جَحْدَرٍ وَهُوَ كَذَّابٌ.
حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب نماز میں ہوتے تھے تو آپ دونوں ہاتھ کانوں کے برابر تک بلند کرتے تھے جب آپ تکبیر کہہ دیتے تھے تو ان دونوں کو چھوڑ دیتے تھے پھر آپ خاموش رہتے تھے بعض اوقات میں نے آپ کو ایسا کرتے ہوئے دیکھا کہ آپ اپنا دایاں ہاتھ بائیں ہاتھ پر رکھ لیتے تھے جب آپ سورت فاتحہ پڑھ کر فارغ ہوتے تھے تو خاموش رہتے تھے جب آپ سورت ختم کرتے تھے تو کچھ دیر کے لئے خاموش ہو جاتے تھے پھر آپ اپنے دونوں ہاتھ کانوں کے برابر تک بلند کرتے تھے پھر تکبیر کہتے ہوئے رکوع میں چلے جاتے تھے ہم اس وقت تک رکوع میں نہیں جاتے تھے جب تک ہم آپ کو رکوع کی حالت میں دیکھ نہیں لیتے تھے پھر آپ رکوع سے سیدھے کھڑے ہو جاتے تھے یہاں تک کہ ہر ایک عضو اپنی جگہ پر آ جاتا تھا پھر آپ اپنے دونوں ہاتھ کانوں کے برابر تک بلند کرتے تھے پھر آپ تکبیر کہتے ہوئے سجدے میں چلے جاتے تھے آپ پیشانی اور ناک کو زمین پر جما کر رکھتے تھے پھر آپ یوں اٹھتے تھے جیسے آ پ کوئی تیر ہوں آپ اپنے ہاتھ کے ذریعے سہارا نہیں لیتے تھے جب آپ نماز کے آخر میں بیٹھتے تھے تو بائیں زانوں کو بچھا لیتے تھے دایاں ہاتھ دائیں زانوں پر رکھتے تھے اور انگلی کے ذریعے اشارہ کرتے تھے جب دعا کرتے تھے جب آپ سلام پھیر لیتے تھے تو جلدی سے کھڑے ہو جاتے تھے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی خصیب بن حجد رہے اور وہ کذاب ہے ۔
مُّعَاذِ بْنِ جَبَلِ
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [prayer book] › . · Hadith 2806
