مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [أَبْوَابُ الْعِيدَيْنِ] ‹ بَابُ مَا جَاءَ فِي الْبُكَاءِ] · حديث 4048
4048 - وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: «جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حِينَ تُوُفِّيَ إِبْرَاهِيمُ، وَعَيْنَاهُ تَدْمَعَانِ، فَقَالَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، تَبْكِي عَلَى هَذَا السَّخْلِ؟ وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ، لَقَدْ دَفَنْتُ اثْنَيْ عَشَرَ وَلَدًا فِي الْجَاهِلِيَّةِ، كُلُّهُمْ أَشَبُّ مِنْهُ، كُلُّهُمْ أَدُسُّهُ فِي التُّرَابِ أَحْيَاءً، فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "فَمَاذَا إِنْ كَانَتِ الرَّحْمَةُ ذَهَبَتْ مِنْكَ!! يَحْزَنُ الْقَلْبُ وَتَدْمَعُ الْعَيْنُ، وَلَا نَقُولُ مَا يُسْخِطُ الرَّبَّ، وَإِنَّا عَلَى إِبْرَاهِيمَ لَمَحْزُنُونَ» ". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ الْأَلْهَانِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.
حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کر تے ہیں: جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صاحبزادے کا انتقال ہوا تو ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے اس نے عرض کی: اے اللہ کے نبی! کیا آپ اس بچے پر رو رہے ہیں؟ اس ذات کی قسم ! جس نے آپ کوحق کے ہمراہ مبعوث کیا ہے میں نے زمانہ جاہلیت میں اپنی اولاد میں سے بارہ بچے دفن کیے ہیں اور ان سب کی عمر اس سے زیادہ تھی ‘ اور میں نے ان سب کوزندہ زمین میں دفن کیا تھا ‘ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کیا ہو سکتا ہے ؟ اگر تم سے رحمت رخصت ہوگئی ہو؟ دل غمگین ہے ‘ اور آنکھ رو رہی ہے ‘ اور ہم کوئی ایسی بات نہیں کہتے جو پروردگار کو ناراض کر دے ‘ ہم ابراہیم کے حوالے سے غمگین ہیں۔ یہ روایت امام طبرانی نےمعجم کبیر میں نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی علی بن زید الہانی ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے۔
اَبِیْ اُمَامَۃَ،
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The gates of the two feasts] › Chapter on what came in weeping] · Hadith 4048
