مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الْعِلْمِ] ‹ بَابُ تَرْكِ الْوُضُوءِ مِمَّا مَسَّتِ النَّارُ] · حديث 1324
1324 - وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: «دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى صَفِيَّةَ بِنْتِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فَغَرَفَتْ لَهُ - أَوْ قَرَّبَتْ لَهُ - عَرْقًا، فَوَضَعَتْهُ بَيْنَ يَدَيْهِ، ثُمَّ غَرَفَتْ أَوْ قَرَّبَتْ آخَرَ، فَوَضَعَتْهُ بَيْنَ يَدَيْهِ فَأَكَلَ، ثُمَّ أَتَى الْمُؤَذِّنُ فَقَالَ: الْوُضُوءَ الْوُضُوءَ، فَقَالَ: " إِنَّمَا الْوُضُوءُ عَلَيْنَا مِمَّا خَرَجَ، وَلَيْسَ عَلَيْنَا مِمَّا يَدْخُلُ» ". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ زَحْرٍ عَنْ عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ، وَهُمَا ضَعِيفَانِ لَا يَحِلُّ الِاحْتِجَاجُ بِهِمَا.
حضرت ابو امامہ بابلی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ صفیہ بنت عبد المطلب رضی اللہ عنہ کے پاس تشریف لائے تو انہوں نے ہڈی والا گوشت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا وہ انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے رکھا پھر مزید پیش کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے رکھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کھا لیا، پھر مؤذن آیا توس نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم وضو کرلیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم وضو کر لیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فر مایا : ہم پر وضو کرنا اس چیز کے حوالے سے لازم ہوتا ہے جو (جسم میں اندر سے) باہر آتی ہے اس چیز کی وجہ سے لازم نہیں ہوتا جو باہر سے جسم کے اندر جاتی ہے۔یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں یہ مذکور ہے: اسے عبیداللہ بن زحر نے علی بن یزید سے نقل کیا ہے کہ دونوں راوی ضعیف ہیں اور ان دونوں سے استدلال کرنا جائز نہیں ہے۔
اَبِیْ اُمَامَۃَ،
Hadith 1324
