مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الْعِلْمِ] ‹ بَابُ فَضْلِ الْوُضُوءِ] · حديث 1135
1135 - وَعَنْ أَبِي عُشَّانَةَ الْمَعَافِرِيِّ أَنَّهُ سَمِعَ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ يَقُولُ: لَا أَقُولُ الْيَوْمَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَا لَمْ يَقُلْ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: " «رَجُلَانِ مِنْ أُمَّتِي يَقُومُ أَحَدُهُمَا مِنَ اللَّيْلِ، فَيُعَالِجُ نَفْسَهُ إِلَى الطَّهُورِ وَعَلَيْهِ عُقَدٌ، فَيَتَوَضَّأُ ; فَإِذَا وَضَّأَ يَدَهُ انْحَلَّتْ عُقْدَةٌ، وَإِذَا وَضَّأَ وَجْهَهُ انْحَلَّتْ عُقْدَةٌ، وَإِذَا مَسَحَ رَأْسَهُ انْحَلَّتْ عُقْدَةٌ، وَإِذَا وَضَّأَ رِجْلَيْهِ انْحَلَّتْ عُقْدَةٌ، فَيَقُولُ الرَّبُّ - عَزَّ وَجَلَّ - لِلَّذِي وَرَاءَ الْحِجَابِ: انْظُرُوا إِلَى عَبْدِي هَذَا يُعَالِجُ نَفْسَهُ، مَا سَأَلَنِي عَبْدِي فَهُوَ لَهُ» ". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَزَادَ فِيهِ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: " مَنْ قَالَ عَلَيَّ مَا لَمْ أَقُلْ فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنْ جَهَنَّمَ "، وَزَادَ: " رِجَالٌ مِنْ أُمَّتِي يَقُومُ أَحَدُهُمْ مِنَ اللَّيْلِ " فَذَكَرَهُ، وَلَهُ سَنَدَانِ عِنْدَهُمَا، رِجَالُ أَحَدِهِمَا ثِقَاتٌ.
ابو عشنہ معافری بیان کرتے ہیں: انہوں نے حضرت علقمہ بن عامر : کو یہ فرماتے ہوئے سناہے : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کےحوالے سے کوئی ایسی بات بیان نہیں کرو گا' جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد نہ فرمائی ہو' میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: " میری امت کے دو افراد ہیں' ان میں سے ایک رات کے وقت اٹھتا ہے اور خود کو طہارت کےلئے تیار کرتا ہے ' اس پر گرہیں لگی ہوئی ہوتی ہیں' وہ وضو کرت اہے ' جب وہ ہاتھ پر وضو کرتا ہے ' تو ایک گرہ کھل جاتی ہے ' جب وہ بازو پر وضو کرتا ہے ' تو ایک گرہ کھل جاتی ہے جب وہ سر پر مسح کرتا ہے' تو ایک گرہ کھل جاتی ہے ' جب وہ اپنے پاؤں پر وضو کرتاہ ے ' تو ایک گرہ کھل جاتی ہے ' حجاب کےپیچھے سے پروردگار (فرشتوں سے) یہ فرماتا ہے:" میرے اس بندے کی طرف دیکھو! جو اپنے آپ کو میری عبادت کے لیے ) تیار کر رہاہے' میرا یہ بندہ مجھ سےجو مانگے گا ' وہ اسے ملے گا"۔ یہ روایت امام احمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے'انہوں نے اس روایت میں یہ الفاظ زائد نقل کئے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: " جو شخص میری طرف کوئی ایسی بات منسوب کرے ' جو میں نے نہ کہی ہو ' تو اسے جہنم میں اپنے مخصوص ٹھکانے تک پہنچنے کے لیے تیار رہنا چاہیے"۔ انہوں نے یہ الفاظ بھی یہ زائد نقل کئے ہیں: " میری امت سے تعلق رکھنے والے کچھ افراد ہیں' ان میں سے ایک رات کےوقت اٹھتاہے"ا سکے بعد راوی نے حسب سابق حدیث ذکر کی ہے ' ان دونوں حضرات(یعنی امام احمد اور امام طبرانی) نے اس روایت کو دو اسناد کے ساتھ نقل کیا ہے' جن میں سے ایک کے رجا ل ثقہ ہیں۔
أَبِي عُشَّانَةَ الْمَعَافِرِيِّ،
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The Book of Science] › Chapter of the Virtue of Ablution] · Hadith 1135
