مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الْعِلْمِ] ‹ بَابُ الِاسْتِنْزَاهِ مِنَ الْبَوْلِ وَالِاحْتِرَازِ مِنْهُ لِمَا فِيهِ مِنَ الْعَذَابِ] · حديث 1035
1035 - «وَعَنْ مَيْمُونَةَ بِنْتِ سَعْدٍ أَنَّهَا قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَفْتِنَا، مِمَّ عَذَابُ الْقَبْرِ؟ قَالَ: " مِنْ أَثَرِ الْبَوْلِ [فَمَنْ أَصَابَهُ بَوْلٌ فَلْيَغْسِلْهُ فَإِنْ لَمْ يَجِدْ مَاءً فَلْيَمْسَحْهُ بِتُرَابٍ طَيِّبٍ]» ". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَإِسْنَادُهُ مَا بَيْنَ ضَعِيفٍ وَمَجْهُولٍ.
سیدہ میمونہ بنت سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے: انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! آپ ہمیں حکم بیان کریں! قبر کا عذاب کس وجہ سے ہوتا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: پیشاب کے اثر (یعنی اس کے چھینٹوں) کی وجہ سے ' اگر پیشاب لگ جائے' تو وہ اس جگہ کو دھو لے' اور اگر اسے پانی نہیں ملتا' تو پاک مٹی کے ذریعے اسے پونچھ لے)۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ضعیف اور مجہول کے درمیان کے راوی ہیں۔
ميمونةَ بنت سعدٍ؛ أنها
Hadith 1035
