مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الْعِلْمِ] ‹ بَابُ ذَهَابِ الْعِلْمِ] · حديث 976
976 - عَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: «لَمَّا كَانَ فِي حِجَّةِ الْوَدَاعِ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ يَوْمَئِذٍ مُرْدِفُ الْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ عَلَى جَمَلٍ آدَمَ، فَقَالَ: " يَا أَيُّهَا النَّاسُ، خُذُوا مِنَ الْعِلْمِ قَبْلَ أَنْ يُقْبَضَ الْعَلْمُ، وَقَبْلَ أَنْ يُرْفَعَ " وَقَدْ كَانَ أَنْزَلَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَسْأَلُوا عَنْ أَشْيَاءَ إِنْ تُبْدَ لَكُمْ تَسُؤْكُمْ وَإِنْ تَسْأَلُوا عَنْهَا حِينَ يُنَزَّلُ الْقُرْآنُ تُبْدَ لَكُمْ عَفَا اللَّهُ عَنْهَا وَاللَّهُ غَفُورٌ حَلِيمٌ} [المائدة: 101]. قَالَ: وَكُنَّا قَدْ كَرِهْنَا كَثِيرًا مِنْ مَسْأَلَتِهِ، وَاتَّقَيْنَا ذَلِكَ حِينَ أَنْزَلَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - ذَلِكَ عَلَى نَبِيِّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: فَأَتَيْنَا أَعْرَابِيًّا فَرَشَوْنَاهُ بِرِدَاءٍ فَاعْتَمَّ بِهِ. قَالَ: حَتَّى رَأَيْتُ حَاشِيَتَهُ خَارِجَةً عَلَى حَاجِبِهِ الْأَيْمَنِ. قَالَ: ثُمَّ قُلْنَا لَهُ: سَلِ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ لَهُ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، كَيْفَ يُرْفَعُ الْعِلْمُ مِنَّا وَبَيْنَ أَظْهُرِنَا الْمَصَاحِفُ، وَقَدْ تَعَلَّمْنَا مَا فِيهَا، وَعَلَّمْنَاهَا نِسَاءَنَا وَذَرَارِيَّنَا وَخَدَمَنَا؟ قَالَ: فَرَفَعَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَأْسَهُ وَقَدْ عَلَتْ وَجْهَهُ حُمْرَةٌ مِنَ الْغَضَبِ. قَالَ: فَقَالَ: " أَيْ، ثَكِلَتْكَ أُمُّكَ، وَهَذِهِ الْيَهُودُ وَالنَّصَارَى بَيْنَ أَظْهُرِهِمُ الْمَصَاحِفُ لَمْ يُصْبِحُوا يَتَعَلَّقُوا مِنْهَا بِحَرْفٍ مِمَّا جَاءَتْهُمْ بِهِ أَنْبِيَاؤُهُمْ، أَلَا وَإِنَّ ذَهَابَ الْعِلْمِ ذَهَابُ حَمَلَتِهِ " ثَلَاثَ مَرَّاتٍ». رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَعِنْدَ ابْنِ مَاجَهْ طَرَفٌ مِنْهُ، وَإِسْنَادُ الطَّبَرَانِيِّ أَصَحُّ ; لِأَنَّ فِي إِسْنَادِ أَحْمَدَ عَلِيَّ بْنَ يَزِيدَ وَهُوَ ضَعِيفٌ جِدًّا، وَهُوَ عِنْدَ الطَّبَرَانِيِّ مِنْ طُرُقٍ فِي بَعْضِهَا الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ، وَهُوَ مُدَلِّسٌ صَدُوقٌ، يُكْتَبُ حَدِيثُهُ، وَلَيْسَ مِمَّنْ يَتَعَمَّدُ الْكَذِبَ. وَاللَّهُ أَعْلَمُ.
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : حجۃ الوداع کے موقع پر ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کھڑے ہوئے ، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ساری پر اپنے پیچھے حضرت فضل بن عباس رضی اللہ عنہ کو بٹھایا ہوا تھا ، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ایک خاکستری رنگ کے اونٹ پر سوار تھے، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاسد فرمایا : اے لوگو! علم حاصل کرلو! اس سے پہلے علم کو قبض کر لیا جائے اور اس سے پہلے کے اسے اٹھا لیا جائے ، اللہ تعالی نے یہ آیت نازل کر دی ہے : " اے ایمان والو ! تم ان چیزوں کے بارے میں سوال نہ کرو ، کہ اگر وہ تمہارے سامنے ظاہر کر دی جائیں ، تو یہ تمہیں برا لگے ، اگر تم ان کے بارے میں اس وقت سوال کرتے ہو ، جب قرآن نازل ہو رہا ہو، تو وہ تمہارے سامنے ظاہر کر دی جائیں گی، اللہ تعالی اس سے در گزر کرے ، اللہ تعالی مغفرت کرنے والا ، بر دبار ہے "۔راوی بیان کرتے ہیں : ہم لوگ ویسے بھی آُ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے زیادہ سوال کرنے کا نا پسند کرتے تھے ، جب اللہ تعالی نے اپنے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر نازل کر دی ، تو ہم احتیاط کرنے لگے، راوی بیان کرتے ہیں: ہمک لوگ ایک دیہاتی کے پاس آئے ہم نے اسے ایک چادر دی اس نے وہ عمامہ کے طور پر باند ھ لی ،یہاں تک کہ اس چادر کا حاشیہ اس شخص کے دائیں ابرو سے نکل رہا تھا ، پھر ہم نے اس سے کہا : تم نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سوال کرو !اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے کہا : اے اللہ کے نبی !ہم سے علم کو کیسے اٹھا لیا جائے گا ؟ جبکہ ہمارے درمیان قرآن مجید موجود ہے اور اس میں جو کچھ مذکور ہے ہم نے اس کا علم حاصل کیا ہے اور ہم نے اس کی تعلیم اپنے بیوی ، بچوں اور خدمت گزاروں کو دی ہے ، راوی بیا ن کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سر مبارک اٹھایا ، غصے کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا چہرہ مبارک سرخ ہو رہا تھا ۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا :اے شخص ! تمہاری ماں تمہیں روئے ، یہودیوں اور عیسائیوں کے درمیان بھی ان کی مقدس کتابیں موجود تھیں ، ان کے انبیاء ان کے پاس جو کلام لے کر آئے تھے ، ان لوگوں نے اس میں سے ایک حرف بھی نہیں رہنے دیا ، یاد رکھنا ! علم کی رخصتی سے مراد اس کو اٹحانے والے( علماء کی ) رخصتی ہے ۔( راوی بیان کرتے ہیں : ) یہ بات آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تین مرتبہ ارشاد فرمائی ۔ یہ روایت امام احمد اورامام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے امام ابن ماجہ نے اسا روایت کا ایک حصہ نقل کیا ہے تاہم امام طبرانی کی سند زیادہ مستند ہے کیونکہ امام احمد کی سند میں ایک راوی علی بن یزید ہے اور وہ انتہائی ضعیف ہے ، امام طبرانی نے اسے مختلف حوالوں سے نقل کیا ہے ان میں سے بعض کی اسناد میں ایک راوی حجاج بن ارطاۃ ہے وہ تدلیس کرنے والا ، صدوق شخص ہے اس کی حدیث کو نوٹ کیا جائے گا ، وہ ان افرادمیں سے نہیں ہے ، جو جان بوجھ کر جھوٹ بولتے ہیں ، باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔
اَبِیْ اُمَامَۃَ،
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The Book of Science] › Section of knowledge] · Hadith 976
