مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [أَبْوَابُ الْعِيدَيْنِ] ‹ [بَابٌ فِي الطَّاعُونِ وَالثَّابِتِ فِيهِ وَالْفَارِّ مِنْهُ] · حديث 3874
3874 - وَعَنْ يَعْلَى بْنِ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ قَالَ: ذَكَرَ مُعَاوِيَةُ الطَّاعُونَ فِي خُطْبَتِهِ فَقَالَ عُبَادَةُ: أُمُّكَ هِنْدٌ أَعْلَمُ مِنْكُمْ فَأَتَمَّ خُطْبَتَهُ ثُمَّ صَلَّى ثُمَّ أَرْسَلَ إِلَى عُبَادَةَ فَنَفَرَتْ رِجَالُ الْأَنْصَارِ مَعَهُ فَأَجْلَسَهُمْ وَدَخَلَ عُبَادَةُ فَقَالَ لَهُ مُعَاوِيَةُ: أَلَمْ تَتَّقِ اللَّهَ وَتَسْتَحِي إِمَامَكَ؟ فَقَالَ لَهُ عُبَادَةُ: أَلَيْسَ قَدْ عَلِمْتَ أَنِّي بَايَعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى أَنِّي لَا أَخَافُ فِي اللَّهِ لَوْمَةَ لَائِمٍ ثُمَّ خَرَجَ مُعَاوِيَةُ عِنْدَ الْعَصْرِ فَصَلَّى ثُمَّ أَخَذَ بِقَائِمَةِ السَّرِيرِ فَقَالَ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي ذَكَرْتُ لَكُمْ حَدِيثًا عَلَى الْمِنْبَرِ فَدَخَلْتُ الْبَيْتَ فَإِذَا الْحَدِيثُ كَمَا حَدَّثَنِي عُبَادَةُ فَاقْتَبِسُوا مِنْهُ فَإِنَّهُ أَعْلَمُ مِنِّي. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عِيسَى بْنُ سِنَانٍ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَغَيْرُهُ، وَضَعَّفَهُ يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ وَغَيْرُهُ.
یعلی بن شداد بن اوس بیان کرتے ہیں: حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے اپنے خطبے میں طاعون کاذکر کیا‘ تو حضرت عبادہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تمہاری والدہ ہندتم سے زیادہ علم رکھتی ہیں حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے اپناخطبہ مکمل کیا‘ پھرانہوں نے نماز پڑھائی پھرانہوں نے حضرت عبادہ رضی اللہ عنہ کو بلوایا تو انصار سے تعلق رکھنے والے کچھ افراد حضرت عبادہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ گئے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے انہیں بٹھایا حضرت عبادہ رضی اللہ عنہ اندرآئےتو حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا کیا آپ اللہ تعالیٰ ڈرتے نہیں ہیں اور اپنے امام سے حیا نہیں کر تے ہیں تو حضرت عبادہ نے ان سے کہا کیا تم یہ بات نہیں جانتے ہو کہ میں نے اللہ کے رسول کے دست اقدس پر اس بات کی بیعت کی تھی کہ میں اللہ تعالیٰ کی ذات کے بارے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے خوف زدہ نہیں ہوں گا پھر حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ عصر کے وقت تشریف لائےانہوں نے نماز پڑھائی پھرانہوں نے پلنگ کے پائے کو پکڑا اور یہ ارشاد فرمایا: اے لوگو! میں نے منبر پر تمہارے سامنے ایک بات ذکر کی تھی پھر میں گھر گیا تو اصل بات وہ ہے‘ جوحضرت عبادہ رضی اللہ عنہ نے مجھے بیان کی‘ توتم ان سے استفادہ کرو کیونکہ وہ مجھ سے زیادہ علم رکھتے ہیں ۔ یہ روایت امام طبرائی نے معجم کبیر اورمعجم اوسط میں نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی عیسیٰ بن سنان ہے‘ جسے ابن حبان اور دیگر حضرات نے’’ثقہ‘‘ قرار دیا ہے یحییٰ بن معین اور دیگر حضرات نے اسے’’ضعیف‘‘ قرارد یا ہے۔
يَعْلَى بْنِ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ،
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The gates of the two feasts] › [A door in the plague, and what remains in it, and who flees from it] · Hadith 3874
