مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [أَبْوَابُ الْعِيدَيْنِ] ‹ [بَابٌ فِي الْحُمَّى] · حديث 3826
3826 - وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: «فَقَدَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَجُلًا كَانَ يُجَالِسُهُ فَقَالَ: " مَا لِي فَقَدْتُ فُلَانًا؟ " فَقَالُوا: اعْتَبَطَ - وَكَانُوا يُسَمُّونَ الْوَعْكَ الِاعْتِبَاطَ - فَقَالَ: " قُومُوا حَتَّى نَعُودَهُ "، فَلَمَّا دَخَلَ عَلَيْهِ بَكَى الْغُلَامُ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: " لَا تَبْكِ فَإِنَّ جِبْرِيلَ أَخْبَرَنِي أَنَّ الْحُمَّى حَظُّ أُمَّتِي مِنْ جَهَنَّمَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عُمَرُ بْنُ رَاشِدٍ ضَعَّفَهُ أَحْمَدُ وَغَيْرُهُ وَوَثَّقَهُ الْعِجْلِيُّ.
سیّدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں: ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ایسے شخص کوغیر موجود پایا جو آپ کا خدمت میں حاضر رہتا تھا آپ نے دریافت کیا : کیا وجہ ہے میں فلاں شخص کوغیر موجود پار ہا ہوں ؟ لوگوں نے عرض کی: اسے بخار ہو گیا ہے ۔ ( راوی بیان کرتے ہیں: ) وہ لوگ لفظ بخار کے لئے لفظ اعتباط استعمال کرتے تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم لوگ اٹھوتا کہ ہم لوگ اس کی عیادت کر آئیں جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس شخص کے پاس تشریف لائے‘ تو وہ لڑکا رونے لگا نبی اکرم رضی اللہ عنہ نے ارشادفر ما یا:تم نہ روؤ! کیونکہ جبرائیل نے مجھے بتایا ہے: بخارجہنم میں سے میری امت کا حصہ ہے۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اورمعجم اوسط میں نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی عمر بن راشد ہے ‘ جسے امام احمد اور دیگر حضرات نے’’ضعیف‘‘ قرار دیا ہے جبکہ عجلی نے اسے’’ثقہ ‘‘ قرار د یا ہے۔
لَهُ النَّبِيُّ «لَا تَبْكِ، فَإِنَّ جِبْرِيلَ ← قُومُوا حَتَّى نَعُودَهُ فَلَمَّا دَخَلَ عَلَيْهِ بَكَى الْغُلَامُ ← اعْتُبِطَ، وَكَانُوا يُسَمُّونَ الْوَعَكَ الِاعْتِبَاطَ، ← مَا لِي فَقَدْتُ فُلَانًا؟ ← «فَقَدَ النَّبِيُّ رَجُلًا كَانَ يُجَالِسُهُ ← عَائِشَةَ
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The gates of the two feasts] › [Door in fever] · Hadith 3826
