مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [أَبْوَابُ الْعِيدَيْنِ] ‹ [بَابُ مَا يَجْرِي عَلَى الْمَرِيضِ] · حديث 3814
3814 - وَعَنْ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «عَجَبٌ لِلْمُؤْمِنِ وَجَزِعِهِ مِنَ السُّقْمِ وَلَوْ يَعْلَمُ مَا لَهُ فِي السُّقْمِ أَحَبَّ أَنْ يَكُونَ سَقِيمًا الدَّهْرَ "، ثُمَّ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَفَعَ رَأْسَهُ إِلَى السَّمَاءِ فَضَحِكَ فَقِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ: مِمَّ رَفَعْتَ إِلَى السَّمَاءِ فَضَحِكْتَ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: " عَجِبْتُ مِنْ مَلَكَيْنِ كَانَا يَلْتَمِسَانِ عَبْدًا فِي مُصَلَّى كَانَ فِيهِ وَلَمْ يَجِدَاهُ فَرَجَعَا فَقَالَا: يَا رَبَّنَا عَبَدُكَ فُلَانٌ كُنَّا نَكْتُبُ لَهُ فِي يَوْمِهِ وَلَيْلَتِهِ عَمَلَهُ الَّذِي كَانَ يَعْمَلُ فَوَجَدْنَاهُ قَدْ حَبَسْتَهُ فِي حِبَالِكَ، قَالَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: اكْتُبُوا لِعَبْدِي عَمَلَهُ الَّذِي كَانَ يَعْمَلُ فِي يَوْمِهِ وَلَيْلَتِهِ وَلَا تَنْقُصُوا مِنْهُ شَيْئًا وَعَلَيَّ أَجْرُهُ مَا حَبَسْتُهُ وَلَهُ أَجْرُ مَا كَانَ يَعْمَلُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْبَزَّارُ بِاخْتِصَارٍ وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي حُمَيْدٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ جِدًّا.
حضرت عقبہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفر مایا ہے: ”مومن پر اور بیماری میں اس کی گریہ وزاری کرنے پر حیرانگی ہوتی ہے اگر اسے یہ پتہ چل جائےکہ بیماری کا کیا اجر وثواب اسے ملتا ہے تو وہ اس بات کو پسند کرے گا کہ وہ ہمیشہ بیمار ر ہے راوی بیان کرتے ہیں: پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپناسرمبارک آسمان کی طرف اٹھایا اور ہنس پڑے عرض کی گئی: یارسول اللہ! آپ آسمان کی طرف سراٹھا کر ہنسے کیوں ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا: مجھے دو فرشتوں پر حیرانگی ہوئی وہ دونوں ایک بندے کو جائےنماز پر تلاش کر رہے تھے جہاں وہ موجود ہوتا تھا ان دونوں فرشتوں نے اس کونہیں پایا تو وہ دونوں واپس گئے ان دونوں نے عرض کی : اے ہمارے پروردگار تیرے فلاں بندے کاعمل ہم روزانہ دن اور رات میں نوٹ کیا کرتے تھے جوعمل وہ پہلے کیا کرتا تھا اب ہم نے اس کو پایا ہے کہ تو نے اسے اپنی رسی میں محبوس کر دیا ہے (یعنی بیماری کا شکار کر دیا ہے) تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا: تم لوگ میرے بندے کے لئے اس کا وہی عمل نوٹ کر و جووہ روزانہ دن اور رات میں عمل کیا کرتا تھا اور اس میں کوئی کمی نہ کر نا جب تک میں نے اسے محبوس رکھا ہے اس کا اجر میرے ذمہ ہے‘ اور اس کو اس چیز کا اجر ملے گا‘ جووہ عمل پہلے کیا کرتا تھا‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نےمعجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ امام بزار نے اسے اختصار کے ساتھ نقل کیا ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن ابوحمید ہے ‘ اوروہ انتہائی ضعیف ہے۔
عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The gates of the two feasts] › [Chapter of what happens on the sick] · Hadith 3814
