مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [أَبْوَابُ الْعِيدَيْنِ] ‹ [بَابُ كَفَّارَةِ سَيِّئَاتِ الْمَرِيضِ وَمَا لَهُ مِنَ الْأَجْرِ] · حديث 3802
3802 - وَعَنِ الْحَسَنِ قَالَ: دَخَلْنَا عَلَى عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ فِي مَرَضِهِ الشَّدِيدِ الَّذِي أَصَابَهُ فَقَالَ: إِنِّي لَأَرْثِيَ لَكَ مِمَّا أَرَى!! قَالَ: يَا ابْنَ أَخِي لَا تَفْعَلْ فَوَاللَّهِ إِنَّ أَحَبَّهُ إِلَيَّ أَحَبُّهُ إِلَى اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - وَقَدْ قَالَ: {مَا أَصَابَكُمْ مِنْ مُصِيبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتْ أَيْدِيكُمْ وَيَعْفُو عَنْ كَثِيرٍ} [الشورى: 30] فَهَذَا مَا كَسَبَتْ يَدَايَ ثُمَّ يَأْتِينِي عَفْوُ رَبِّي بَعْدُ فِيمَا بَقِيَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.
حسن بصری بیان کرتے ہیں: ہم لوگ حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے یہ ان کی اس شدید بیماری کے دوران کی بات ہے ‘ جو انہیں لاحق ہوئی تھی تو انہوں نے فرمایا: میں جوصورت حال دیکھ رہا ہوں ‘ اس کے حوالے سے میں آپ کے سامنے افسوس کا اظہار کر تا ہوں تو حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اے میرے بھتیجے ! ایسا نہ کرو‘ اللہ کی قسم !وہ چیز میرے نزدیک سب سے زیادہ محبوب ہے‘ جو اللہ تعالی کے نزدیک زیادہ پسند یدہ ہو‘ اللہ تعالیی نے ارشادفر مایا ہے: ’’ تمہیں جو بھی مصیبت لاحق ہوتی ہے ‘ تو وہ اس چیز کی وجہ سے ہوتی ہے جوتمہارے ہاتھوں نے کما یا ہو تا ہے‘ اور وہ بہت سی چیزوں سے درگز رکر تا ہے‘‘۔ تو یہ وہ چیز ہے‘ جومیرے ہاتھوں نے کمائی ہے‘ اور پھر میرے پاس میرے پروردگار کی معافی آجائےگی‘ جو باقی رہ جانے والی چیزوں کے بارے میں ہو گی ۔ یہ روایت امام طبرانی نےمعجم کبیر میں نقل کی ہے‘ اوراس کی سندحسن ہے۔
إِنِّي لَأَرْثِيَ لَكَ مِمَّا أَرَى!! ← دَخَلْنَا عَلَى عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ فِي مَرَضِهِ الشَّدِيدِ الَّذِي أَصَابَهُ ← الْحَسَنِ،
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The gates of the two feasts] › [Chapter of Atonement for the bad deeds of the sick and his wages] · Hadith 3802
