مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [أَبْوَابُ الْعِيدَيْنِ] ‹ بَابُ مَا جَاءَ فِي الْبُكَاءِ] · حديث 4051
4051 - وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: «ثَقُلَ ابْنٌ لِفَاطِمَةَ، فَأَرْسَلَتْ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - تَدْعُوهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " ارْجِعْ، فَإِنَّ لَهُ مَا أَخَذَ وَلَهُ مَا أَبْقَى، وَكَلٌّ لِأَجَلٍ بِمِقْدَارٍ ". فَلَمَّا احْتُضِرَ بَعَثَتْ إِلَيْهِ وَقَالَ لَنَا: " قُومُوا ". فَلَمَّا جَلَسَ جَعَلَ يَقْرَأُ: " {فَلَوْلَا إِذَا بَلَغَتِ الْحُلْقُومَ - وَأَنْتُمْ حِينَئِذٍ تَنْظُرُونَ} [الواقعة: 83 - 84] ". حَتَّى قُبِضَ، فَدَمَعَتْ عَيْنَا رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ سَعْدٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَتَبْكِي وَتَنْهَى عَنِ الْبُكَاءِ؟ قَالَ: " إِنَّمَا هِيَ رَحْمَةٌ، وَإِنَّمَا يَرْحَمُ اللَّهُ مِنْ عِبَادِهِ الرُّحَمَاءَ» ". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُوسَى الْمَكِّيُّ، وَفِيهِ كَلَامٌ، وَقَدْ وُثِّقَ.
حضرت ابوہر یرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: جب سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے کی طبیعت زیادہ خراب ہو گئی توانہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو پیغام بھیج کر آپ کو بلوایا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( قاصد سے ) فرمایا تم واپس چلے جاؤ جو وہ واپس لے وہ بھی اس کی ملکیت ہے اور جسے وہ باقی رہنے دے وہ بھی اس کی ملکیت ہے‘ اور ہر ایک کی ایک متعین مدت ہے ‘ جب ان صاحبزادے کا وقت قریب آیا توسیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو پیغام بھیجا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا:تم لوگ اٹھو! جب آپ تشریف فرما ہوئے تو آپ نے یہ آیت پڑھنی شروع کی: ’’پھر (اس وقت ) کیوں نہیں ( روح کو واپس کرتے ) جب وہ حلق تک پہنچ جاتی ہے‘ اور تم اس وقت دیکھتے رہ جاتے ہو‘‘۔ یہاں تک کہ ان صاحبزادے کا انتقال ہو گیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ! آپ رو رہے ہیں جبکہ آپ رونے سے منع کرتے ہیں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: یہ رحمت ہے اور اللہ تعالی ٰاپنے بندوں میں سے رحم کرنے والے بندوں پررحم کرتا ہے‘‘۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی اسماعیل بن موسٰی مکی ہے اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے اس کی توثیق بھی کی گئی ہے۔
أَبِي هُرَيْرَةَ،
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The gates of the two feasts] › Chapter on what came in weeping] · Hadith 4051
