مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [أَبْوَابُ الْعِيدَيْنِ] ‹ [بَابُ عِيَادَةِ الْمَرِيضِ] · حديث 3778
3778 - وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: «عَادَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِهِ بِهِ وَجَعٌ، وَأَنَا مَعَهُ فَقَبَضَ عَلَى يَدِهِ فَوَضَعَ يَدَهُ عَلَى جَبْهَتِهِ وَكَانَ يَرَى ذَلِكَ مِنْ تَمَامِ عِيَادَةِ الْمَرِيضِ وَقَالَ: " إِنَّ اللَّهَ قَالَ: نَارِي أُسَلِّطُهَا عَلَى عَبْدِي الْمُؤْمِنِ لِيَكُونَ حَظَّهُ مِنَ النَّارِ فِي الْآخِرَةِ». قُلْتُ: رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ بِاخْتِصَارٍ وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يَزِيدَ بْنِ تَمِيمٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ.
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحاب میں ایک صاحب کی عیادت کے لئے تشریف لے گئے جنہیں کوئی بیماری لاحق تھی میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھانبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ہاتھ کومٹھی میں لیا اور ان کا ہاتھ ان کی پیشانی پر رکھا ( یا اپنا دست ان کی پیشانی پر رکھا ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ سمجھتے تھے کہ یہ چیز بیمار کی عیادت کا حصہ ہے آپ نے ارشادفرمایا: ’’ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: یہ میری آگ ہے ‘ جو میں اپنے مؤمن بندے پر مسلط کر تا ہوں تا کہ آخرت میں جہنم کی جگہ یہ اس کا حصہ ہوجائے‘‘۔ میں یہ کہتا ہوں: یہ روایت امام ابن ماجہ نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن یزید بن تمیم ہے‘ اور وہ ضعیف ہے۔
أَبِي هُرَيْرَةَ،
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The gates of the two feasts] › [Door of the patient’s clinic] · Hadith 3778
