مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [أَبْوَابُ الْعِيدَيْنِ] ‹ بَابٌ فِيمَنْ لَمْ يَمْرَضْ] · حديث 3754
3754 - وَعَنْ أَنَسٍ «أَنَّ أَعْرَابِيًّا أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: " مَتَى عَهْدُكَ بِأُمِّ مِلْدَمٍ؟ " قَالَ: وَمَا أُمُّ مِلْدَمٍ؟ قَالَ: " حَرٌّ يَكُونُ بَيْنَ الْجِلْدِ وَالْعَظْمِ يَمُصُّ الدَّمَ وَيَأْكُلُ اللَّحْمَ " قَالَ: مَا اشْتَكَيْتُ قَطُّ!! فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: " مَنْ أَرَادَ أَنْ يَنْظُرَ إِلَى رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ النَّارِ فَلْيَنْظُرْ إِلَى هَذَا "، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: " أَخْرِجُوهُ عَنِّي». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ الْحَسَنُ بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ، قَالَ عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ: صَدُوقٌ مُنْكَرُ الْحَدِيثِ، وَقَالَ ابْنُ عَدِيٍّ: صَدُوقٌ وَهُوَ مِمَّنْ لَمْ يَتَعَمَّدِ الْكَذِبَ وَلَهُ أَحَادِيثُ صَالِحَةٌ.
حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک دیہاتی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے در یافت کیا:تمہیں ام ملدم آخری مرتبہ کب ہواتھا ؟ اس نے دریافت کیا: اُمّ ملدم کیا ہوتا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفر مایا: ایک تپش جو جلد اور ہڈیوں کے درمیان ہوتی ہے‘ اور خون چوس لیتی ہے‘ اور گوشت کو کھالیتی ہے اس نے کہا: مجھے یہ بیمار ی کبھی لاحق نہیں ہوئی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا: جوشخص یہ چاہتا ہو کہ وہ جہنمی کود یکھے اسے اس شخص کو دیکھ لینا چاہیے پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفر ما یا : اسے میرے پاس سے لے جاؤ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حسن بن ابوجعفر ہے‘ عمرو بن علی بیان کرتے ہیں : یہ صدوق اور منکر الحدیث ہے۔ ابن عدی کہتے ہیں: یہ صدوق ہے یہ ان افراد میں سے ایک ہے ‘ جو جان بوجھ کر غلط بیانی نہیں کرتے ہیں اس کے حوالے سے صالح احادیث منقول ہیں۔
مَا اشْتَكَيْتُ قَطُّ. ← «حَرٌّ يَكُونُ بَيْنَ الْجِلْدِ وَالْعَظْمِ، يَمَصُّ الدَّمَ، وَيَأْكُلُ اللَّحْمَ» ← وَمَا اُمُّ مِلْدَمٍ ← «مَتَى عَهْدُكَ بِأُمِّ مِلْدَمٍ؟» ← أَنَسٍ، أَنَّ أَعْرَابِيًّا أَتَى النَّبِيَّ
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The gates of the two feasts] › Chapter in those who are not sick] · Hadith 3754
