مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [أَبْوَابُ الْعِيدَيْنِ] ‹ [بَابُ بُلُوغِ الدَّرَجَاتِ بِالِابْتِلَاءِ] · حديث 3742
3742 - وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ خَالِدٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ - وَكَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: " «إِنَّ الْعَبْدَ إِذَا سَبَقَتْ لَهُ مِنَ اللَّهِ مَنْزِلَةٌ لَمْ يَبْلُغْهَا بِعَمَلٍ ابْتَلَاهُ اللَّهُ فِي جَسَدِهِ، فِي مَالِهِ أَوْ وَلَدِهِ ثُمَّ صَبَّرَهُ عَلَى ذَلِكَ حَتَّى يُبَلِّغَهُ الْمَنْزِلَةَ الَّتِي سَبَقَتْ لَهُ مِنَ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ -» ". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَأَحْمَدُ وَفِيهِ قِصَّةٌ وَمُحَمَّدُ بْنُ خَالِدٍ وَأَبُوهُ: لَمْ أَعْرِفْهُمَا وَاللَّهُ أَعْلَمُ.
محمد بن خالد نے اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا سے یہ روایت نقل کی ہے: وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی تھے وہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئےسنا ہے: ” بے شک بندے کے لئے جب اللہ تعالی کی طرف سے کوئی مقام طے ہو چکا ہو‘ اور آدمی اپنے عمل کے ذریعے وہاں تک نہ پہنچ سکتا ہوتو اللہ تعالی اس شخص کو اس کے جسم یا اس کے مال یا اس کی اولاد کے حوالے سے آزمائش کاشکار کردیتا ہے‘ اور پھر اس آزمائش پراسے صبر ‘ کی توفیق دیتا ہے یہاں تک کہ اللہ تعالی اس شخص کو اس مقام تک پہنچادیتا ہے‘ جواللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کے لئے پہلے سے طے ہوچکا ہوتا ہے‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر معجم اوسط میں اور امام احمد نے نقل ہے۔اس میں پورا واقعہ ہے محمد بن خالد اوراس کے والدان دونوں میں واقف نہیں ہوں باقی اللہ بہتر جانتا ہے۔
رَسُولِ اللَّهِ ← جده وكانت له صحبة من رسول الله ← أَبِيهِ ← مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدٍ
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The gates of the two feasts] › [Chapter reaching degrees by celibacy] · Hadith 3742
