مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [أَبْوَابُ الْعِيدَيْنِ] ‹ [بَابُ سُجُودِ الشُّكْرِ] · حديث 3718
3718 - وَعَنْ أَبِي قَتَادَةَ قَالَ: «خَرَجَ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ يَطْلُبُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَمْ يَجِدْهُ فَطَلَبَهُ فِي بُيُوتِهِ فَلَمْ يَجِدْهُ، فَاتَّبَعَهُ فِي سِكَّةٍ سِكَّةٍ حَتَّى دُلَّ عَلَيْهِ فِي جَبَلِ ثَوَابٍ فَخَرَجَ حَتَّى رَقِيَ جَبَلَ ثَوَابٍ فَنَظَرَ يَمِينًا وَشِمَالًا فَبَصَرَ بِهِ فِي الْكَهْفِ الَّذِي اتَّخَذَ النَّاسُ إِلَيْهِ طَرِيقًا إِلَى مَسْجِدِ الْفَتْحِ قَالَ مُعَاذٌ: فَإِذَا هُوَ سَاجِدٌ فَلَمْ يَرْفَعْ رَأْسَهُ حَتَّى أَسَأْتُ بِهِ الظَّنَّ فَظَنَنْتُ أَنْ قَدْ قُبِضَتْ رُوحُهُ فَقَالَ: " جَاءَ جِبْرِيلُ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - بِهَذَا الْمَوْضِعِ فَقَالَ: إِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى يُقْرِئُكَ السَّلَامَ وَيَقُولُ لَكَ: مَا تُحِبُّ أَنْ أَصْنَعَ بِأُمَّتِكَ؟ قُلْتُ: اللَّهُ أَعْلَمُ، فَذَهَبَ ثُمَّ جَاءَ إِلَيَّ فَقَالَ: إِنَّهُ يَقُولُ لَكَ: لَا أَسُوؤُكَ فِي أُمَّتِكَ فَسَجَدْتُ فَأَفْضَلُ مَا تُقُرِّبَ بِهِ إِلَى اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - السُّجُودُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالصَّغِيرِ وَفِيهِ إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْمَدَنِيُّ مَوْلَى بَنِي مُزَيْنَةَ وَضَعَّفَهُ أَبُو زُرْعَةَ وَغَيْرُهُ.
حضرت ابوقتادہ بیان کرتے ہیں: حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تلاش میں نکلے۔ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کونہیں پایا انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ کے گھروں میں تلاش کیا‘ تونہیں پایاوہ ایک ایک گلی سے گزرتے ہوئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو تلاش کرتے رہے یہاں تک کہ جبل ثواب کے پاس ان کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں پتہ چلا تو وہ جبل ثواب پر چڑھ گئے انہوں نے دائیں بائیں دیکھاتوان کی نظر ایک غار پر پڑی کہ جسے لوگ مسجد فتح کے راستے کے طور پر استعمال کرتے تھے ‘ حضرت معاذ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سجدے کی حالت میں تھے میں پہاڑ کے سرے سے نیچے اتر آیا‘ لیکن آپ سجدے کی حالت میں ہی رہے آپ نے اپناسرنہیں اٹھایا یہاں تک کہ میں نے آپ کے بارے میں براگمان کیا میں نے یہ گمان کیا کہ شاید آپ کی روح قبض ہوگئی ہے‘ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سراٹھالیا تو میں نے عرض کی: یارسول اللہ! میں نے آپ کے بارے میں براگمان کیاتھا۔ میں نے یہ گمان کیا کہ شاید آپ کی روح قبض ہوگئی ہے ‘ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفر مایا: جبرائیل میرے پاس اس مقام پر آئے اور انہوں نے یہ بتایا: اللہ تعالی ٰنے آپ کو سلام کہا ہے‘ اور آپ سے یہ فرمایا ہے کہ تم کیا چاہتے ہو کہ میں تمہاری امت کے ساتھ کیا کروں؟ میں نے عرض کی: اللہ بہتر جانتا ہے وہ چلے گئے پھر وہ میرے پاس آئے اور بولے: پروردگا رآپ سے یہ فرمارہا ہے: میں تمہاری امت کے بارے میں تمہیں نا گواری کا شکارنہیں کروں گا ‘ تو میں سجد ے میں چلا گیا کیونکہ سب سے زیادہ فضیلت والی وہ چیز‘ جس کے ذریعے بندہ اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرتا ہے‘ وہ سجدہ کرنا ہے ‘‘ ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم صغیر میں نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی اسحاق بن ابراہیم مدنی ہے‘ جو بنومز ینہ کا غلام ہے ابوزرعہ اور دیگر حضرات نے اسے’’ضعیف‘ قرارد یا ہے۔
أَبِي قَتَادَةَ،
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The gates of the two feasts] › [Chapter of prostration of gratitude] · Hadith 3718
