مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [أَبْوَابُ الْعِيدَيْنِ] ‹ [بَابُ صَلَاةِ سَيِّدِنَا رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ] · حديث 3634
3634 - وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُصَلِّي حَتَّى تَرِمَ قَدَمَاهُ فَقِيلَ لَهُ: أَيْ رَسُولَ اللَّهِ تَفْعَلُ هَذَا وَقَدْ جَاءَكَ مِنَ اللَّهِ أَنْ قَدْ غَفَرَ لَكَ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ؟ قَالَ: " أَفَلَا أَكُونُ عَبْدًا شَكُورًا؟». قُلْتُ: رَوَى النَّسَائِيُّ بَعْضَهُ. رَوَاهُ الْبَزَّارُ بِأَسَانِيدَ، وَرِجَالُ أَحَدِهِمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ.
حضرت ابو ہر یرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ( رات کے وقت نوافل ادا کر تے ہوئےاتنی طویل نماز ادا کرتے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاؤں ورم آلود ہو جاتے تھے ‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی گئی : یارسول اللہ!آپ ایسا کرتے ہیں؟ جب کہ اللہ تعالی کی طرف سے آپ کے پاس یہ بات آ چکی ہے کہ اس نے آپ کے گزشتہ اور آئندہ ذنب کی مغفرت کر دی ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا: کیا میں پروردگار کاشکر گزار بندہ نہ بنوں؟ (علامہ ہیثمی فرماتے ہیں:) میں یہ کہتا ہوں :امام نسائی نے اس کا کچھ حصہ روایت کیا ہے ۔یہ روایت امام بزار نے مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے ‘ ان دونوں میں سے ایک کے رجال ’’صحیح‘‘ کے رجال ہیں ۔
أَبِي هُرَيْرَةَ،
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The gates of the two feasts] › [Chapter of the Prayer of Our Master, Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him] · Hadith 3634
