مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [أَبْوَابُ الْعِيدَيْنِ] ‹ [بَابُ الْوِتْرِ أَوَّلَ اللَّيْلِ وَآخِرَهُ وَقَبْلَ النَّوْمِ] · حديث 3478
3478 - وَعَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سَأَلَ أَبَا بَكْرٍ: " مَتَى تُوتِرُ؟ " قَالَ: أُصَلِّي مَثْنَى مَثْنَى ثُمَّ أُوتِرُ قَبْلَ أَنْ أَنَامَ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: " مُؤْمِنٌ حَذِرٌ " فَقَالَ لِعُمَرَ: " كَيْفَ تُوتِرُ؟ " فَقَالَ: " أُصَلِّي مَثْنَى مَثْنَى ثُمَّ أَنَامُ حَتَّى أُوتِرَ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: " مُؤْمِنٌ قَوِيٌّ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ وَفِيهِ كَلَامٌ.
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا: تم کب وتر ادا کرتے ہو؟ انہوں نے عرض کی: میں دو دورکعات ادا کرتا رہتا ہوں پھر سونے سے پہلے وتر ادا کر لیتا ہوں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ان سے فرمایا: یہ ایک محتاط مومن کا طریقہ ہے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا:تم کب وتر ادا کرتے ہو؟ انہوں نے عرض کی : میں دو دورکعات ادا کرتا رہتا ہوں پھر میں سو جاتا ہوں یہاں تک کہ رات کے آخری حصے میں بیدار ہو کر ) وتر ادا کرتا ہوں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ارشادفرمایا: یہ ایک طاقتور مؤمن کا طریقہ ہے۔یہ روایت امام طبرانی نےمعجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے۔
عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The gates of the two feasts] › [The door of the tendon at the beginning of the night and at the end and before sleep] · Hadith 3478
