مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [أَبْوَابُ الْعِيدَيْنِ] ‹ [بَابُ صَلَاةِ الضُّحَى] · حديث 3430
3430 - وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «كُنْتُ أَمُرُّ بِهَذِهِ الْآيَةِ فَمَا أَدْرِي مَا هِيَ؟ قَوْلُهُ: {بِالْعَشِيِّ وَالْإِشْرَاقِ} [ص: 18] حَتَّى حَدَّثَتْنِي أُمُّ هَانِئٍ بِنْتُ أَبِي طَالِبٍ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - دَخَلَ عَلَيْهَا فَدَعَا بِوَضُوءٍ فِي جَفْنَةٍ كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى أَثَرِ الْعَجِينِ فِيهَا فَتَوَضَّأَ ثُمَّ صَلَّى الضُّحَى ثُمَّ قَالَ:» يَا أُمَّ هَانِئٍ هَذِهِ صَلَاةُ الْإِشْرَاقِ ". قُلْتُ: هُوَ فِي الصَّحِيحِ بِغَيْرِ سِيَاقِهِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ حَجَّاجُ بْنُ نُصَيْرٍ ضَعَّفَهُ ابْنُ الْمَدِينِي وَجَمَاعَةٌ وَوَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ وَابْنُ حِبَّانَ.
حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: پہلے میں یہ آیت ”بالعشی والاشراق‘‘ تلاوت کیا کرتا تھا لیکن مجھے یہ پتہ نہیں چلتا تھا کہ اس سے مراد کیا ہے؟ .یہاں تک کہ سیدہ ام ہانی بنت ابوطالب رضی اللہ عنہ نے مجھے یہ حدیث بیان کی: کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ان کے ہاں تشریف لائے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ایک برتن میں وضو کا پانی منگوایا جس میں مجھے آٹے کا نشان نظرآرہاتھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے وضو کیا پھر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے چاشت کے وقت نماز ادا کی، پھر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ارشادفرمایا: اے ہانی یہ اشراق کی نماز ہے۔علامہ ہیثمی فرماتے ہیں: میں یہ کہتا ہوں یہ روایت"صحیح" میں اس سیاق کے بغیر مذکور ہے۔یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی حجاج بن نصیر ہے جسے علی بن مدینی اور ایک جماعت نے ضعیف قرار دیا ہے جب کہ یحییٰ بن معین اور ابن حبان نے اسے" ثقہ "قرار دیا ہے۔
ابْنِ عَبَّاسٍ،
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The gates of the two feasts] › [Chapter of Duha prayer] · Hadith 3430
