مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [أَبْوَابُ الْعِيدَيْنِ] ‹ [بَابٌ جَامِعٌ فِيمَا يُصَلَّى قَبْلَ الصَّلَاةِ وَبَعْدَهَا] · حديث 3394
3394 - وَعَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ قَالَ: «كَتَبَ إِلَيَّ أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ: أَمَّا بَعْدُ فَإِنِّي أُخْبِرُكَ عَنْ هَدْيِ ابْنِ مَسْعُودٍ وَقَوْلِهِ فِي الصَّلَاةِ وَفِعْلِهِ، وَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أُعْطِيَ جَوَامِعَ الْكَلِمِ كَانَ يُعَلِّمُنَا كَيْفَ نَقُولُ فِي الصَّلَاةِ:» التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ وَالصَّلَوَاتُ الطَّيِّبَاتُ، السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ، السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ " ثُمَّ تَسْأَلُ مَا بَدَا لَكَ بَعْدَ ذَلِكَ وَتَرْغَبُ إِلَيْهِ مِنْ رَحْمَتِهِ وَمَغْفِرَتِهِ كَلِمَاتٍ يَسِيرَةٍ وَلَا تُطِيلُ الْقُعُودَ، وَكَانَ يَقُولُ: " أُحِبُّ أَنْ تَكُونَ مَسْأَلَتُكُمْ إِلَيْهِ حِينَ يَقْعُدُ أَحَدُكُمْ فِي الصَّلَاةِ وَيَقْضِي التَّحِيَّةَ أَنْ يَقُولَ: سُبْحَانَكَ لَا إِلَهَ غَيْرُكَ اغْفِرْ لِي ذَنْبِي وَأَصْلِحْ لِي عَمَلِي إِنَّكَ تَغْفِرُ الذُّنُوبَ لِمَنْ تَشَاءُ وَأَنْتَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ يَا غَفَّارٌ اغْفِرْ لِي، يَا تَوَّابُ تُبْ عَلَيَّ، يَا رَحْمَنُ ارْحَمْنِي، يَا عَفُوُّ اعْفُ عَنِّي، يَا رَؤُوفُ ارْأَفْ بِي يَا رَبِّ أَوْزِعْنِي أَنْ أَشْكُرَ نِعْمَتَكَ الَّتِي أَنْعَمْتَ عَلَيَّ وَطَوِّقْنِي حُسْنَ عِبَادَتِكَ يَا رَبِّ أَسْأَلُكَ مِنَ الْخَيْرِ كُلِّهِ وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ الشَّرِّ كُلِّهِ يَا رَبِّ افْتَحْ لِي بِخَيْرٍ وَاخْتِمْ لِي بِخَيْرٍ وَآتِنِي شَوْقًا إِلَى لِقَائِكَ مِنْ غَيْرِ ضَرَّاءَ مُضِرَّةٍ وَلَا فِتْنَةٍ مُضِلَّةٍ، وَقِنِي السَّيِّئَاتِ وَمَنْ تَقِي السَّيِّئَاتِ يَوْمَئِذٍ فَقَدْ رَحِمْتَهُ وَذَلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ ". ثُمَّ مَا كَانَ مِنْ دُعَائِكُمْ فَلْيَكُنْ فِي تَضَرُّعٍ وَإِخْلَاصٍ فَإِنَّهُ يُحِبُّ تَضَرُّعَ عَبْدِهِ إِلَيْهِ، ثُمَّ إِنَّ عَبْدَ اللَّهِ كَانَ يَقُومُ بِالْهَاجِرَةِ حِينَ تَرْتَفِعُ الشَّمْسُ فَيُصَلِّي أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ يَقْرَأُ فِيهِنَّ بِسُوَرٍ مِنَ الْقُرْآنِ طِوَالٍ وَقِصَارٍ ثُمَّ لَا يَلْبَثُ إِلَّا يَسِيرًا حَتَّى يُصَلِّيَ صَلَاةَ الظُّهْرِ فَيُطِيلُ الْقِيَامَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ يَقْرَأُ فِيهِمَا بِسُورَتَيْنِ بِـ الَمْ تَنْزِيلِ السَّجْدَةِ وَنَحْوِهَا مِنَ الْمَثَانِي فَإِذَا صَلَّى الظُّهْرَ رَكَعَ بَعْدَهَا رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ مَكَثَ حَتَّى إِذَا تَصَوَّبَتِ الشَّمْسُ وَعَلَيْهِ نَهَارٌ طَوِيلٌ صَلَّى صَلَاةَ الْعَصْرِ وَيَقْرَأُ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ بِسُورَتَيْنِ مِنَ الْمَثَانِي أَوِ الْمُفَصَّلِ وَهُمَا أَقْصَرُ مِمَّا فِي صَلَاةِ الظُّهْرِ فَإِذَا قَضَى صَلَاةَ الْعَصْرِ لَمْ يُصَلِّ بَعْدَهَا حَتَّى تَغْرُبَ الشَّمْسُ، فَإِذَا رَآهَا قَدْ تَوَارَتْ صَلَّى صَلَاةَ الْمَغْرِبِ الَّتِي تُسَمُّونَهَا الْعِشَاءَ وَيَقْرَأُ فِيهِمَا بِسُورَتَيْنِ مِنْ قِصَارِ الْمُفَصَّلِ وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَى وَسَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى وَنَحْوِهِمَا مِنْ قِصَارِ الْمُفَصَّلِ ثُمَّ يَرْكَعُ بَعْدَهَا رَكْعَتَيْنِ، وَكَانَ يُقْسِمُ عَلَيْهَا - شَيْئًا لَا يُقْسِمُهُ عَلَى شَيْءٍ مِنَ الصَّلَوَاتِ - بِاللَّهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ إِنَّ هَذِهِ السَّاعَةَ لَمِيقَاتُ هَذِهِ الصَّلَاةِ وَيَقُولُ تَصْدِيقُهَا: أَقِمِ الصَّلَاةَ لِدُلُوكِ الشَّمْسِ إِلَى غَسَقِ اللَّيْلِ وَقُرْآنَ الْفَجْرِ إِنَّ قُرْآنَ الْفَجْرِ كَانَ مَشْهُودًا، وَهِيَ الَّتِي تُسَمُّونَ صَلَاةَ الصُّبْحِ، وَعِنْدَهَا يَجْتَمِعُ الْحُرْسَانُ كَانَ يَعِزُّ عَلَيْهِ أَنْ يَسْمَعَ مُتَكَلِّمًا تِلْكَ السَّاعَةَ إِلَّا بِذِكْرِ اللَّهِ وَقِرَاءَةِ الْقُرْآنِ. ثُمَّ يَمْكُثُ بَعْدَهَا حَتَّى يُصَلِّيَ الْعِشَاءَ الَّتِي تُسَمُّونَ الْعَتْمَةَ وَيَقْرَأُ بِخَوَاتِيمِ آلِ عِمْرَانَ: إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ إِلَى خَاتِمَتِهَا، وَخَوَاتِيمِ سُورَةِ الْفُرْقَانِ: تَبَارَكَ الَّذِي جَعَلَ فِي السَّمَاءِ بُرُوجًا إِلَى خَاتِمَتِهَا فِي تَرْتِيلٍ وَحُسْنِ صَوْتٍ بِالْقُرْآنِ، وَكَانَ يَقُولُ: إِنَّ حُسْنَ الصَّوْتِ بِالْقُرْآنِ زِينَةٌ لَهُ، فَإِنْ لَمْ يَقْرَأْ (فِيهَا بِخَوَاتِيمِ هَاتَيْنِ اقْرَأْ نَحْوَهُمَا، مِنَ الْمَثَانِي أَوِ الْمُفَصَّلِ فَإِذَا قَضَى صَلَاةَ الْعِشَاءِ رَكَعَ بَعْدَهَا رَكْعَتَيْنِ، وَكَانَ لَا يُصَلِّي بَعْدَ شَيْءٍ مِنَ الصَّلَاةِ الْمَكْتُوبَةِ إِلَّا رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ صَلَاةَ الْجُمُعَةِ، فَإِنَّمَا كَانَ) يُصَلِّي بَعْدَهَا أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ حَتَّى إِذَا كَانَ مِنْ آخَرِ اللَّيْلِ قَامَ فَأَوْتَرَ مَا قَدَّرَ اللَّهُ مِنَ الصَّلَاةِ إِمَّا تِسْعًا أَوْ سَبْعًا أَوْ فَوْقَ ذَلِكَ حَتَّى إِذَا كَانَ حِينَ يَنْشَقُّ الْفَجْرُ وَرَأَى الْأُفُقَ وَعَلَيْهِ مِنَ اللَّيْلِ ظُلْمَةٌ قَامَ فَصَلَّى الصُّبْحَ قَرَأَ فِيهِمَا بِسُورَتَيْنِ طَوِيلَتَيْنِ بِالرَّعْدِ وَنَحْوِهَا مِنَ الْمَثَانِي حَتَّى يَهِمَّ أَنْ يُضِيءَ الصُّبْحُ، وَكَانَ يُكَبِّرُ فِي كُلِّ (شَيْءٍ) مِنَ الصَّلَاةِ حِينَ يَقُومُ لَهَا وَكَانَ حِينَ يَرْفَعُ رَأْسَهُ فَيَقُولُ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ يَسْتَوِي قَائِمًا ثُمَّ يَحْمَدُ رَبَّهُ وَيُسَبِّحُهُ وَهُوَ قَائِمٌ، ثُمَّ يُكَبِّرُ لِلسَّجْدَةِ حِينَ يَخِرُّ سَاجِدًا ثُمَّ يُكَبِّرُ حِينَ يَرْفَعُ رَأْسَهُ ثُمَّ يَسْتَوِي قَاعِدًا وَيَحْمَدُ رَبَّهُ وَيُسَبِّحُهُ ثُمَّ يُكَبِّرُ لِلسَّجْدَةِ الثَّانِيَةِ ثُمَّ يُكَبِّرُ حِينَ يَرْفَعُ رَأْسَهُ مِنْهَا ثُمَّ يُكَبِّرُ حِينَ يَقُومُ مِنَ الْقَعْدَةِ فَإِذَا صَلَّى صَلَاةً يُسَلِّمُ مَرَّتَيْنِ مِنْ غَيْرِ أَنْ يَلْتَفِتَ أَوْ يُشِيرَ بِيَدِهِ ثُمَّ يَعْمِدُ إِلَى حَاجَتِهِ إِنْ كَانَتْ عَنْ يَمِينِهِ أَوْ عَنْ شِمَالِهِ وَكَانَ إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ خَفَضَ فِيهَا صَوْتَهُ وَيَدَيْهِ وَكَانَ عَامَّةُ قَوْلِهِ وَهُوَ قَائِمٌ أَنْ يُسَبِّحَ، وَكَانَ تَسْبِيحُهُ فِيهَا " سُبْحَانَكَ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ " لَا يَفْتُرُ عَنْ ذَلِكَ قُلْتُ: فِي الصَّحِيحِ طَرَفٌ مِنْهُ فِي التَّشَهُّدِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَأَبُو عُبَيْدَةَ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ أَبِيهِ.
یحییٰ بن ابو کثیر بیان کرتے ہیں : (حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے) ابوعبیدہ بن عبداللہ نے مجھے خط لکھا جس میں تحریر تھا:)امابعد! میں تمہیں حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے طریقہ کار اور نماز کے بارے میں ان کے قول اور فعل کے بارے میں بتاتا ہوں انہوں نے یہ بات بیان کی ہے: نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو جامع کلمات عطا کیے گئے تھے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ہمیں اس بات کی تعلیم دیا کرتے تھے کہ ہمیں نماز میں کیا پڑھنا چاہیے؟ (نماز میں تشہد کے کلمات یہ ہیں :)ہر طرح کی زبانی، جسمانی اور مالی عبادات اللہ تعالی کے لئے مخصوص ہیں اے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ! آپ پر سلام ہو اللہ تعالی کی رحمتیں اور اس کی برکتیں نازل ہوں ہم پر اور الله تعالی کے تمام نیک بندوں پر سلام ہو میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالی کے علاوہ اور کوئی معبودنہیں ہے اور میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں“۔(پھر حضرت عبد الله بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: یا شاید نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ارشادفرمایا: اس کے بعد جو تمہیں مناسب لگے تم سوال کرو اور اللہ تعالی کی رحمت اور اس کی مغفرت کے حوالے سے اس کی بارگاہ میں رغبت کا اظہارکرو جو مناسب الفاظ کے ذریعے ہو تم زیادہ دیر تک قعدہ نہ کرو وہ یہ کہا کرتے تھے:مجھے یہ بات پسند ہے کہ جب تم میں سے کوئی ایک شخص نماز میں قعدہ میں بیٹھا ہوا ہو اور تشہد کے کلمات پڑھ لے تو پھر وہ اللہ تعالی کی بارگاہ میں یوں دعا کرے:تو ہر عیب سے پاک ہے تیرے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے تو میرے گناہ کی مغفرت کر د ے میرے عمل کوٹھیک کردے بے شک تو جس کی چاہتا ہے اس کے گناہوں کی مغفرت کردیتا ہے اور تو مغفرت کرنے والا رحم کرنے والا ہے اے بہت زیاہ مغفرت کرنے والے تو میری مغفرت کردے اے بہت زیادہ توبہ قبول کرنے والے تو میری توبہ قبول فرمالےاے بہت زیادہ رحم کرنے والے مجھ پر رحم فرما اے معاف کرنے والے تو مجھ سے درگزر فرما اے مہربان تو میرے ساتھ مہربانی کا معاملہ فرما اے میرے پروردگار! تو مجھے یہ توفیق عطا کر کہ میں تیری اس نعمت کا شکر ادا کروں جو تو نے مجھ پر کی ہے اور مجھے اچھے طریقے سے اپنی عبادت کرنے کی توفیق نصیب فرمادےاے میرے پروردگار!میں تجھ سے ہر قسم کی بھلائی کا سوال کرتا ہوں اور ہم کے شر سے تیری پناہ مانگتا ہوں اے میرے پروردگار! تو میرے لئے بھلائی کو کھول د ے اور میرے لئے بھلائی پر مہر لگادے اور مجھے اپنی بارگاہ میں حاضری کا شوق عطا کر دے ایسی حاضری جوکسی نقصان دہ صورت اور کی گمراہ کرنے والے فتنے کے بغیر ہو اور تو مجھے برائیوں سے بچالے جسے تو برائیوں سے بچا لے گا تو گویا تو نے اس پر رحم کر دیا اور یہ بہت بڑی کامیابی ہے۔اس کے بعد تمہاری جوبھی دعا ہو تو اس میں گریہ و زاری اور اخلاص ہونا چاہیئے کیونکہ بندے کا اللہ تعالی کی بارگاہ میں گریہ و زاری کرنا وہ پسند کرتے تھے۔پھر حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ دوپہر کے وقت جب سورج بلند ہو جا تا تھا اس وقت وہ کھڑے ہو کر چار رکعات ادا کرتے تھے جن میں وہ قرآن سے تعلق رکھنے والی طوال اور قصار سورتوں کی تلاوت کرتے تھے اس کے تھوڑی دیر بعد وہ ظہر کی نماز ادا کر لیتے تھے جس میں وہ پہلی دو رکعات میں طویل قیام کرتے تھے اور وہ ان دو رکعات میں سورت الم تنزیل السجدۃ کی تلاوت کرتے تھے اور دوسری رکعت میں اس کی مانند تلاوت کرتے تھے جب وہ ظہر کی نماز ادا کر لیتے تھے تو اس کے بعد دو رکعات ادا کرتے تھے اس کے بعد وہ تھوڑی دیر تک ٹہرے رہتے تھے جب سورج کچھ اور ڈھل جاتا تھا اور ابھی دن کا خاصہ حصہ باقی ہوتا تھا تو اس وقت وہ عصر کی نماز ادا کر لیتے تھے وہ اس کی پہلی دو رکعات میں مثانی یا مفصل سے تعلق رکھنے والی دو سورتوں کی تلاوت کرتے تھے لیکن یہ دونوں رکعات ظہر کی نماز سے مختصر ہوتی تھیں جب وہ عصر کی نماز ادا کر لیتے تھے تو اس کے بعد وہ کوئی اور نماز ادا نہیں کرتے تھے یہاں تک کہ سورج غروب ہو جاتا تھا جب وہ سورج کو دیکھتے تھے کہ وہ چھپ گیا ہے تو وہ مغرب کی نماز ادا کر لیتے تھے جسے تم شام کی نماز کہتے ہو وہ اس کی دو رکعات میں قصار فصل سے تعلق رکھنے والی دو سورتیں سورت والیل اور سورت الاعلی کی تلاوت کرتے تھے یا اس کی مانندقصارمفصل سے تعلق رکھنے والی کسی اور سورت کی تلاوت کرتے تھے اس کے بعد وہ دورکعات ادا کر تے تھے وہ ان رکعات کے حوالے سے قسم اٹھایا کرتے تھے حالانکہ وہ اور کسی بھی نماز کے حوالے سے قسم نہیں اٹھاتے تھے وہ اس اللہ کے نام کی قسم اٹھاتے تھے جس کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے کہ یہ وہ گھڑی ہے جو اس نماز کا خصوص وقت ہے اور وہ اس کی تصدیق میں یہ آیت تلاوت کیا کرتے تھے: ۔تم سورج کے ڈھلنے سے لے کر رات کے پھیلنے تک نماز قائم کرو اور فجر کی تلاوت بے شک فجر کی تلاوت میں حاضری ہوتی ہے۔یہ وہ نماز ہے جسے تم صبح کی نماز کا نام دیتے ہو اس وقت محافظ فر شتے اکھٹے ہوتے ہیں انہیں یہ بات بہت گراں گزرتی تھی کہ وہ اس گھڑی میں کسی شخص کو کلام کرتے ہوئے سن لیں البتہ اللہ کے ذکر یا قرآن کی تلاوت کا معاملہ مختلف ہے اس کے بعد وہ ٹھہر ے رہتے تھے یہاں تک کہ وہ عشاء کی نماز ادا کرتے تھے جسے تم لوگ "عتمہ " کہتے ہو وہ اس میں آل عمران کی آخری یہ آیات تلاوت کرتے تھے:بے شک آسمانوں اور زمین کی تخلیق میں یہاں سے لے کر سورت کے آخر تک اور دوسری رکعت میں سورت الفرقان کی آخری آیات تلاوت کرتے تھےبرکت والی ہے وہ ذات جس نے آسمان میں بروج بنائے ہیں یہاں سے لے کر آخر تک کی تلاوت ٹھہر ٹھہر کر اور عمدہ آواز میں کرتے تھے۔اور وہی فرمایا کرتے تھے : قرآن کو اچھی آواز میں پڑھنا اس کی زینت ہے اگر وہ ان رکعات میں ان دو سورتوں کی اختتامی آیات نہیں پڑھتے تھے تو اس کی مانند تلاوت کیا کرتے تھے جس کا تعلق مثانی یا مفصل سے تعلق رکھنے والی سورتوں سے تھا جب وہ عشاء کی نماز ادا کر لیتے تھے تو اس کے بعد دورکعات ادا کرتے تھے وہ ہر فرض نماز کے بعدصرف دورکعات ہی ادا کیا کرتے تھے صرف جمعہ کی نماز کا معاملہ مختلف ہے تو وہ اس کے بعد چار رکعات ادا کیا کرتے تھے یہاں تک کہ جب رات کا آخری حصہ ہوتا تھا وہ اٹھ کر جو اللہ تعالی نے ان کے نصیب میں نمازبھی ہوتی تھی وہ ادا کرتے تھے وہ وتر ادا کرتے تھے خواہ وہ نو ہوں یا سات ہوں یا اس سے زیادہ ہوں یہاں تک کہ جب صبح صادق ہوجاتی تھی اور وہ افق کو دیکھ لیتے تھے اور ابھی رات کی تاریکی باقی ہوتی تھی تو وہ اٹھ کرصبح کی نماز ادا کرنا شروع کرتے تھے ان دو رکعات میں وہ دوطویل سورتوں کی تلاوت کرتے تھے جیسے سورة رعد یا اس جیسی مثانی سے تعلق رکھنے والی کسی سورت کی تلاوت کرتے تھے یہاں تک کہ یہ وہم ہوتا تھا کہ شاید صبح روشن ہو چکی ہے۔ہر نماز میں وہ جب بھی کھڑے ہوتے تھے تو تکبیر کہتے تھے جب وہ (رکوع سے) سر کو اٹھاتے تھے تو سمع الله لمن حمده کہتے تھے یہاں تک کہ سیدھے کھڑے ہوجاتے تھے پھر وہ اپنے پروردگار کی حمد اور اس کی تسبیح بیان کرتے تھے جو قیام کے دوران کرتے تھے پھر وہ سجدے کے لئے تکبیر کہتے تھے یہاں تک کہ سجدے میں چلے جاتے تھے پھر وہ تکبیر کہتے ہوئے سجدے سے سر کو اٹھاتے تھے پھر سیدھے ہو کر بیٹھ جاتے تھے اپنے پروردگار کی حمد اور اس کی تسبیح بیان کرتے تھے پھر وہ دوسرے سجدے کے لئے تکبیر کہتے تھے پھر وہ اس وقت تکبیر کہتے تھے جب سجدے سے سر کو اٹھاتے تھے پھر وہ اس وقت تکبیر کہتے تھے جب وہ قعدہ کے بعد اٹھا کرتے تھے جب وہ کوئی نماز ادا کرتے تھے تو وہ دو مرتبہ سلام پھیرا کرتے تھے اور ادھر ادھر تو جہ نہیں دیتے تھے یا ہاتھ کے ذریعے اشارہ نہیں کرتے تھے پھر وہ اس کے (یعنی نماز ختم کرنے کے بعد اپنی حاجت کی طرف بڑھ جاتے تھے خواہ وہ دائیں طرف ہو یا بائیں طرف ہو (یعنی وہ نماز سے فارغ ہونے کے بعد کسی بھی طرف سے اٹھ جاتے تھے ) وہ جب نماز ادا کرنے کےلئے کھڑے ہوتے تھے تو اپنی آواز کو اور دونوں ہاتھوں کو پست رکھتے تھے قیام کے دوران وہ زیادہ تر تسبیح پڑھا کرتے تھے اور نماز میں ان کی تسبیح یہ ہوتی تھی:"تو ہر عیب سے پاک ہے تیرے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے"۔ اس میں کوئی وقفہ نہیں ہوتا تھا۔(علامہ ہیثمی فرماتے ہیں): میں یہ کہتا ہوں :"صحیح" میں اس روایت کا ایک حصہ مذکور ہے جو تشہد کے بارے میں ہے۔ یہ روایت امام طبرانی نےمعجم کبیر میں نقل کی ہے ابوعبیدہ نامی راوی نے اپنے والد حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ) سے سماع نہیں کیا ہے۔
هَدْيِ ابْنِ مَسْعُودٍ وَقَوْلِهِ فِي الصَّلَاةِ وَفِعْلِهِ وَقَالَ: ← إِلَيَّ أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ: أَمَّا بَعْدُ فَإِنِّي أُخْبِرُكَ ← وَعَن يحيى بن أبي كثير،
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The gates of the two feasts] › [A congregating door in what is prayed before and after the prayer] · Hadith 3394
