مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [أَبْوَابُ الْعِيدَيْنِ] ‹ [بَابُ النَّهْيِ عَنِ الصَّلَاةِ بَعْدَ الْعَصْرِ، وَغَيْرِ ذَلِكَ] · حديث 3346
3346 - «وَعَنْ صَفْوَانَ بْنِ الْمُعَطَّلِ أَنَّهُ سَأَلَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ إِنِّي سَائِلُكَ عَمًّا أَنْتَ بِهِ عَالِمٌ وَأَنَا بِهِ جَاهِلٌ، مِنَ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ سَاعَةٌ تَكْرَهُ فِيهَا الصَّلَاةَ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: " إِذَا صَلَّيْتَ الصُّبْحَ فَأَمْسِكْ عَنِ الصَّلَاةِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ فَإِذَا طَلَعَتْ فَصَلِّ فَإِنَّ الصَّلَاةَ مَحْضُورَةٌ مُتَقَبَّلَةٌ حَتَّى تَعْتَدِلَ عَلَى رَأْسِكَ مِثْلَ الرُّمْحِ فَإِذَا اعْتَدَلْتَ عَلَى رَأْسِكَ فَإِنَّ تِلْكَ السَّاعَةَ تُسْجَرُ فِيهَا جَهَنَّمُ وَتُفْتَحُ فِيهَا أَبْوَابُهَا حَتَّى تَزُولَ عَنْ حَاجِبِكَ الْأَيْمَنِ فَإِذَا زَالَتْ عَنْ حَاجِبِكَ الْأَيْمَنِ فَصَلِّ فَإِنَّ الصَّلَاةَ مَحْضُورَةٌ مُتَقَبَّلَةٌ حَتَّى تُصَلِّيَ الْعَصْرَ» ". رَوَاهُ عَبْدُ اللَّهِ فِي زِيَادَاتِهِ فِي الْمُسْنَدِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ إِلَّا أَنِّي لَا أَدْرِي سَمِعَ سَعِيدٌ الْمَقْبُرِيُّ مِنْهُ أَمْ لَا وَاللَّهُ أَعْلَمُ وَقَدْ رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ صَفْوَانَ بْنَ الْمُعَطَّلِ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ.
حضرت صفوان بن معطل رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں : انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا' اور عرض کی: یا رسول اللہ ! میں آپ سے اس چیز کے بارےمیں سوال کرنا چاہتا ہوں' جس سے آپ واقف ہیں اور میں اس سے ناواقف ہوں' رات کی وار دن کی کون سی گھڑیاں ایسی ہیں'جن میں نماز ادا کرنے کو آپ مکروہ قرار دیتے ہیں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: "جب تم صبح کی نماز ادا کر لو' تو تم نماز ادا کرنے سے رک جاؤ' یہاں تک کہ سورج طلوع ہو جائے' جب وہ طلوع ہو جائے توپھر تم نماز ادا کرو' کیونکہ نماز میں حاضری ہوتی ہے' اور وہ قبول ہوتی ہے' ایسا اس وقت تک کر سکتے ہو' جب تک (سورج) تمہارے سر پر نیزے کی مانند برابر نہیں ہو جاتا (یعنی عین دوپہر کا وقت نہیں ہو جاتا) جب وہ بالکل تمہارے سر پر آ جائے' تو یہ وہ گھڑی ہے' جس میں جہنم کو بھڑکایا جاتا ہے 'اور اس میں جہنم کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں' ایسا اس وقت تک ہو گا' جب تک وہ (سورج) ڈھل نہیں جاتا ' جب وہ ڈھل جائے تو تم نماز ادا کر سکتے ہو' کیونکہ نماز میں حاضر ی ہوتی ہے' اور وہ قبول ہوتی ہے' اور تم نماز اس وقت تک ادا کرسکتے ہو ' جب تک تم عصر کی نماز ادا نہیں کر لیتے"۔ یہ روایت عبداللہ نے مسند احمد کی" زیادات" میں نقل کی ہے' اس کے رجال " صحیح" کےرجال ہیں' البتہ مجھے نہیں معلوم کہ سعید مقبری نے ان سے سماع کیا ہے ' یا نہیں کیا ہے؟ باقی اللہ بہتر جانتا ہے۔ امام ابن ماجہ نے یہ روایت سعید مقبری کے حوالے سے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے نقل کی ہے: ( وہ بیان کرتے ہیں : ) حضرت صفوان بن معطل رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ ! ۔۔۔۔۔
صَفْوَانَ بْنِ الْمُعَطَّلِ،
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The gates of the two feasts] › [Chapter forbidding prayer after Asr, and other than that] · Hadith 3346
