مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [أَبْوَابُ الْعِيدَيْنِ] ‹ [بَابُ الْكُسُوفِ] · حديث 3274
3274 - وَعَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ: «لَمَّا تُوُفِّيَ إِبْرَاهِيمُ كَسَفَتِ الشَّمْسُ فَقَالَ النَّاسُ: كَسَفَتِ الشَّمْسُ لِمَوْتِ إِبْرَاهِيمَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: " إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ لَا يَنْكَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِهِ فَإِذَا رَأَيْتُمْ ذَلِكَ فَافْزَعُوا إِلَى الصَّلَاةِ» رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَسَعِيدُ بْنُ أَسَدِ بْنِ مُوسَى ذَكَرَهُ ابْنُ حِبَّانَ فِي الثِّقَاتِ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: جب (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صاحبزادے) حضرت ابراہیم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا انتقال ہوا تو سور ج گرہن ہو گیا ' لوگوں نے کہا: حضرت ابراہیم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے انتقال کی وجہ سے سورج گرہن ہوا ہے' تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: " بے شک سورج اور چاند اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں' یہ کسی کے مرنے یاجینے پر گرہن نہیں ہوتے ہیں' جب تم انہیں (گرہن کی حالت میں ) دیکھو 'تو نماز کی طرف جاؤ!"۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ' سعید بن اسد بن موسیٰ نامی راوی کا ذکر امام ابن حبا ن نے کتاب " الثقات" میں کیا ہے' اس رویات کے بقیہ رجال "صحیح" کے رجال ہیں۔
النَّاسُ کَسَفَتْ الشَّمْسُ لِمَوْتِ إِبْرَاهِيمَ ← «لَمَّا تُوُفِّيَ إِبْرَاهِيمُ كَسَفَتِ الشَّمْسُ ← عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The gates of the two feasts] › Eclipse door · Hadith 3274
