مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [أَبْوَابُ الْعِيدَيْنِ] ‹ [بَابُ الْكُسُوفِ] · حديث 3262
3262 - وَعَنْ عَلِيٍّ قَالَ: «كَسَفَتِ الشَّمْسُ فَصَلَّى عَلِيٌّ لِلنَّاسِ فَقَرَأَ يس [أ] وَنَحْوَهَا ثُمَّ رَكَعَ نَحْوًا مِنْ قَدْرِ [السُّورَةِ ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَقَالَ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، ثُمَّ قَامَ قَدْرَ الْ] سُورَةِ يَدْعُو وَيُكَبِّرُ ثُمَّ رَكَعَ قَدْرَ قِرَاءَتِهِ أَيْضًا ثُمَّ قَالَ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ ثُمَّ قَامَ أَيْضًا [قَدْرَ السُّورَةِ، ثُمَّ رَكَعَ قَدْرَ ذَلِكَ أَيْضًا] حَتَّى صَلَّى أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ ثُمَّ قَالَ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ ثُمَّ سَجَدَ ثُمَّ قَامَ إِلَى الرَّكْعَةِ الثَّانِيَةِ فَفَعَلَ كَفِعْلِهِ فِي الرَّكْعَةِ الْأُولَى ثُمَّ جَلَسَ يَدْعُو وَيَرْغَبُ حَتَّى انْجَلَتِ الشَّمْسُ ثُمَّ حَدَّثَهُمْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَذَلِكَ فَعَلَ» رَوَاهُ أَحْمَدُ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ
حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے: راوی بیان کرتے ہیں: سورج گرہن ہوا ' تو حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے لوگوں کو نماز پڑھائی اور اس میں سورت یٰسین اور اس جیسی سورت کی تلاوت کی ' پھر وہ رکوع میں گئے اور اتنی دیر رکوع میں رہے' جتنی دیر انہوں نےتلاوت کی تھی ' پھر انہوں نے اپنے سر کواٹھایا اور سمع اللہ لمن حمدہ پڑھا اور پھر اتنی دیر تک کھڑے ہوئے دعا کرتے رہے ' اور تکبیر کہتےرہے 'جتنی دیر انہوں نے ا س سورت کی تلاوت کی تھی ' پھر وہ رکوع میں چلے گئے اور وہ رکوع بھی ان کی قرات جتنا تھا' پھر انہوں نے سمع اللہ لمن حمدہ کہا' پھر وہ اتنی دیر کھڑے رہے جتنی دیر میں اس سورت تلاوت ہوتی ہے' پھر وہ رکوع میں اتنیدیر تک گئے یہاں تک کہ انہوں نے چار مرتبہ رکوع کیا' پھر انہوں نے سمع اللہ لمن حمدہ پڑھا اور پھر سجدے میں چلے گئے ' پھر وہ دوسری رکعت کے لئے کھڑے ہوئے ' تو انہوں نے دوسری رکعت بھی اسی طرح ادا کی ' جس طرح پہلی رکعت ادا کی تھی' پھر وہ بیٹھ کر دعا کرتے رہے ' اور رغبت کااظہار کرتے رہے ' یہاں تک کہ سورج روشن ہو گیا' پھر انہوں نے لوگوں کوبتایا:کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی ایسا ہی کیا تھا۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے' اور اس کے رجال " ثقہ" ہیں۔
عَلِيٍّ،
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The gates of the two feasts] › Eclipse door · Hadith 3262
