مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [أَبْوَابُ الْعِيدَيْنِ] ‹ [بَابُ زِيَارَةِ الْقُبُورِ] · حديث 4303
4303 - وَعَنْ زَيْدِ بْنِ الْخَطَّابِ قَالَ: «خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ نَحْوَ الْمَقَابِرِ، فَقَعَدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَ قَبْرٍ، فَرَأَيْنَاهُ كَأَنَّهُ يُنَاجِي، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْسَحُ الدُّمُوعَ مِنْ عَيْنَيْهِ، فَتَلَقَّاهُ عُمَرُ، وَكَانَ أَوَّلُنَا فَقَالَ: بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي مَا يُبْكِيكَ؟ قَالَ: " إِنِّي اسْتَأْذَنْتُ رَبِّي فِي زِيَارَةِ قَبْرِ أُمِّي وَكَانَتْ وَالِدَةً وَلَهَا قِبَلِي حَقٌّ، فَأَرَدْتُ أَنْ أَسْتَغْفِرَ لَهَا فَنَهَانِي ". قَالَ: ثُمَّ أَوْمَأَ إِلَيْنَا أَنِ اجْلِسُوا فَجَلَسْنَا، فَقَالَ: " إِنِّي كُنْتُ نَهَيْتُكُمْ عَنْ زِيَارَةِ الْقُبُورِ، فَمَنْ شَاءَ مِنْكُمْ أَنْ يَزُورَ فَلْيَزُرْ، وَإِنِّي [كُنْتُ] نَهَيْتُكُمْ عَنْ لُحُومِ الْأَضَاحِيِّ فَوْقَ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ، فَكُلُوا وَادَّخِرُوا مَا بَدَا لَكُمْ، وَإِنِّي [كُنْتُ] نَهَيْتُكُمْ عَنْ ظُرُوفٍ، وَأَمَرْتُكُمْ بِظُرُوفٍ، [وَأَمَرْتُكُمْ بِـ] ظُرُوفٍ فَانْتَبِذُوا ; فَإِنَّ الْآنِيَةَ لَا تُحِلُّ شَيْئًا وَلَا تُحَرِّمُهُ، وَاجْتَنِبُوا كُلَّ مُسْكِرٍ» ". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِي إِسْنَادِهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ. قُلْتُ: وَتَأْتِي أَحَادِيثُ مِنْ هَذَا النَّوْعِ فِي الْأَشْرِبَةِ، إِنْ شَاءَ اللَّهُ.
حضرت زید بن خطاب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: فتح مکہ کے دن ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ قبرستان کی طرف گئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک قبر کی طرف رخ کر کے تشریف فرما ہوئے، ہم نے آپ کو دیکھا یوں لگ رہا تھا مناجات کررہے ہیں پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے آپ نے اپنی آنکھوں سے آنسو پو نچھے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی آپ سے ملاقات ہوئی وہ ہم سب سے پہلے آپ نے ملے انہوں نے عرض کی : میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں آپ کیوں رورہے ہیں؟ نبی اکرم صلى الله عليہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میں نے اپنے پروردگار سے یہ اجازت مانگی کہ اپنی ماں کی قبر کی زیارت کروں کیونکہ وہ میری والدہ ہیں اور ان کا مجھ پر حق ہے میں نے یہ ارادہ کیا کہ میں ان کے لئے دعا مغفرت کروں تو پروردگار نے مجھے منع کر دیا پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہماری طرف اشارہ کیا کہ تم لوگ بیٹھ جاؤ ہم بیٹھ گئے آپ نے ارشادفرمایا: میں نے تمہیں قبروں کی زیارت کرنے سے منع کیا تھا اب تم میں سے جو ( قبروں کی) زیارت کرنا چاہے وہ زیارت کر لے اور میں نے تمہیں تین دن سے زیادہ قربانی کا گوشت استعمال کرنے سے منع کیا تھا اب تم اسے کھاؤ بھی اور ذخیرہ بھی کرو جتنا تمہیں مناسب لگے اور میں نے تمہیں مخصوص قسم کے برتنوں سے منع کیا تھا اور مخصوص قسم کے برتنوں کی تمہیں اجازت دی تھی تو اب تم( کسی بھی قسم کے برتن میں ) نبیذ تیارکرلو کیونکہ برتن کسی چیز کوحلال یا حرام نہیں کرتا ہے، البتہ تم ہر نشہ آور چیز سے اجتناب کرنا‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معمعجم کبیر میں نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے جس سے میں واقف نہیں ہوں۔ (علامہ ہیثمی فرماتے ہیں: ) میں یہ کہتا ہوں ،اس نوعیت سے متعلق دیگر احادیث مشروبات سے متعلق باب میں آگے آئیں گی، اگر اللہ نے چاہا۔
زَيْدِ بْنِ الْخَطَّابِ،
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The gates of the two feasts] › [The door to visiting the graves] · Hadith 4303
