مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [أَبْوَابُ الْعِيدَيْنِ] ‹ [بَابُ الصَّلَاةِ عَلَى الْجِنَازَةِ] · حديث 4159
4159 - وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «أُتِيَ بِجِنَازَةِ جَابِرِ بْنِ عَتِيكٍ - أَوْ قَالَ: سَهْلِ بْنِ عَتِيكٍ - وَكَانَ أَوَّلَ مَنْ صُلِّيَ عَلَيْهِ فِي مَوْضِعِ الْجَنَائِزِ، فَتَقَدَّمَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَكَبَّرَ فَقَرَأَ بِأُمِّ الْقُرْآنِ فَجَهَرَ بِهَا ثُمَّ كَبَّرَ الثَّانِيَةَ ثُمَّ كَبَّرَ الثَّالِثَةَ فَدَعَا لِلْمَيِّتِ فَقَالَ: " اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُ وَارْحَمْهُ وَارْفَعْ دَرَجَتَهُ "، ثُمَّ كَبَّرَ الرَّابِعَةَ، فَدَعَا لِلْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ، ثُمَّ سَلَّمَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ النَّوْفَلِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: حضرت جابر بن عتیک رضی اللہ عنہ ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں: حضرت سہل بن عتیک رضی اللہ عنہ کا جنازہ لایا گیا یہ وہ پہلے فرد ہیں جن کی نماز جنازہ ‘ جنازگاہ میں ادا کی گئی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم آگے بڑھے آپ نے تکبیر پڑھی پھر آپ نے سورت فاتحہ پڑھی اور اسے بلند آواز میں پڑھا پھر آپ نے دوسری تکبیر کہی پھر آپ نے تیسری تکبیر کہی آپ نے میت کے لئے دعا کرتے ہوئے یہ کہا: ”اے اللہ! تو اس کی مغفرت کر دے تو اس پررحم کر تو اس کے درجہ کو بلند کر دے‘‘۔ پھر آپ نے چوتھی تکبیر کہی پھر آپ نے مؤمن مردوں اور مومن خواتین کے لئے دعا کی اور پھر سلام پھیر دیا۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یزید بن عبدالملک نوفلی ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے۔
ابْنِ عَبَّاسٍ،
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The gates of the two feasts] › [Chapter of prayer over funeral] · Hadith 4159
