مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الْعِلْمِ] ‹ بَابُ لَيْسَ لِأَحَدٍ قَوْلٌ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ] · حديث 805
805 - عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، وَذَكَرَ قِصَّةً قَالَ فِيهَا: «انْطَلَقْتُ أَنَا فَانْتَسَخْتُ كِتَابًا مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ، ثُمَّ جِئْتُ بِهِ فِي أَدِيمٍ، فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: " مَا هَذَا الَّذِي فِي يَدِكَ يَا عُمَرُ؟ ". قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كِتَابٌ نَسَخْتُهُ لِنَزْدَادَ بِهِ عِلْمًا إِلَى عِلْمِنَا، فَغَضِبَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَتَّى احْمَرَّتْ وَجْنَتَاهُ، ثُمَّ نُودِيَ بِالصَّلَاةُ جَامِعَةٌ، فَقَالَتِ الْأَنْصَارُ: أَغْضِبَ نَبِيُّكُمْ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -؟ السِّلَاحَ السِّلَاحَ، فَجَاءُوا حَتَّى أَحْدَقُوا بِمِنْبَرِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: " يَا أَيُّهَا النَّاسُ، إِنِّي قَدْ أُوتِيتُ جَوَامِعَ الْكَلِمِ وَخَوَاتِمَهُ، وَاخْتُصِرَ لِي اخْتِصَارًا، وَلَقَدْ أَتَيْتُكُمْ بِهَا بَيْضَاءَ نَقِيَّةً، فَلَا تَتَهَوَّكُوا، وَلَا يَغُرَّنَّكُمُ الْمُتَهَوِّكُونَ ". قَالَ عُمَرُ: فَقُمْتُ فَقُلْتُ: رَضِيتُ بِاللَّهِ رَبًّا، وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا، وَبِكَ رَسُولًا. ثُمَّ نَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ» -. رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاقَ، ضَعَّفَهُ أَحْمَدُ وَجَمَاعَةٌ، وَيَأْتِي الْحَدِيثُ بِقِصَّتِهِ وَتَمَامِهِ فِي بَابِ الِاقْتِدَاءِ بِالسَّلَفِ.
حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ بات منقول ہے : انہوں نے ایک پورا واقعہ بیان کیا ، جس میں انہوں نے یہ بات بیان کی : میں نے اہل کتاب کی کتاب کا کچھ حصہ نقل کیا ۔ وہ چمڑے پر لکھ کر میں اسے لے کر آیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دریافت کیا :اے عمر ! یہ تمہارے ہاتھ میں کیا ہے؟ میں نے عرض کی :یا رسول اللہ ! یہ تحریر ہے ، جسے میں نے نقل کیا ہے ، تاکہ اس کے ذریعے ہمارے علم میں اضافہ ہو تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم غصے میں آ گئے، یہاں تک کہ آپ کے رخسار سرخ ہو گئے، پھر یہ اعلان کیا گیا :نماز جمع کرنے والی ہے (یعنی سب لوگ اکٹھے ہو جائیں )انصار نے کہا : کیا تمہارے نبی کو غصہ آ گیا ہے؟ہتھیار نکالو !ہتھیار نکالو !وہ لوگ آ ئے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے منبر کے گرد بیٹھ گئے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا :" اے لوگو! مجھے جامع اور اختتامی کلمات عطا کیے گئے ہیں اور میرے لیے اختصار کیا گیا ہے ، میں وہ لے کر تمہارے پاس ایسی حالت میں آیا ہوں کہ وہ صاف شفاف ہے ، تو تم موشگافیاں نہ کرنے والے لوگ تمہیں دھوکہ کا شکار نہ کریں "حضرت عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں کھڑا ہوا اور میں نے عرض کی : میں اللہ تعالی کے پروردگار ہونے "اسلام کے دین ہونے اور آپ کے رسول ہونے سے راضی ہوں ( یعنی ان امور پر ایمان رکھتا ہوں )پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ( منبر سے ) نیچے تشریف لے آئے ۔ یہ روایت امام ابو یعلی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن اسحآق ہے اسے امام احمد اور ایک جماعت نے ضعیف قرار دیا ہے ، یہ مکمل حدیث اور پور واقعہ اسلاف کی پیروی کرنے سے متعلق باب میں آگے آئے گا ۔
قُلْتُ ← لِي رَسُولُ اللَّهِ مَا هَذَا الَّذِي فِي يَدِكَ يَا عُمَرُ؟ ← فَانْتَسَخْتُ كِتَابًا مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ، ثُمَّ جِئْتُ بِهِ فِي أَدِيمٍ، ← فِيهَا: «انْطَلَقْتُ ← قصة ← عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ،
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The Book of Science] › Bab No one has a say with the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him] · Hadith 805
