مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الْعِلْمِ] ‹ بَابٌ فِيمَنْ سَنَّ خَيْرًا أَوْ غَيْرَهُ أَوْ دَعَا إِلَى هُدًى] · حديث 769
769 - وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «سَبْعَةٌ يَجْرِي لِلْعَبْدِ أَجْرُهُنَّ مِنْ بَعْدِ مَوْتِهِ وَهُوَ فِي قَبْرِهِ: مَنْ عَلَّمَ عِلْمًا، أَوْ كَرَى نَهْرًا، أَوْ حَفَرَ بِئْرًا، أَوْ غَرَسَ نَخْلًا، أَوْ بَنَى مَسْجِدًا، أَوْ وَرَّثَ مُصْحَفًا، أَوْ تَرَكَ وَلَدًا يَسْتَغْفِرُ لَهُ بَعْدَ مَوْتِهِ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ الْعَرْزَمِيِّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.
حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں :نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا :"سات لوگ ہیئں جن کا اجر ان کے مرنے کے بعد بھی جاری رہتا ہے جبکہ وہ قبر میں ہو تے ہیں ، وہ شخص جو کسی علم کی تعلیم دے ، یا نہر کھدوائے یا کنواں کھدوائے یا درخت لگائے یا مسجد بنائے یا قرآن مجید وراثت میں منتقل کرے ، یا ایسی اولاد چھوڑ کر جائے جو اس کے مرنے کے بعد ، اس کے لئے دعا مغفرت کرتی رہے "۔یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عبید اللہ عرزمی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
أَنَسٍ،
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The Book of Science] › Chapter about who deeds a good or something else, or calls to guidance] · Hadith 769
