مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الْعِلْمِ] ‹ بَابُ الرِّحْلَةِ فِي طَلَبِ الْعِلْمِ] · حديث 565
565 - عَنْ رَجَاءِ بْنِ حَيْوَةَ قَالَ: سَمِعْتُ مَسْلَمَةَ بْنَ مَخْلَدٍ يَقُولُ: بَيْنَا أَنَا عَلَى مِصْرَ إِذْ أَتَى الْبَوَّابُ، فَقَالَ: إِنَّ أَعْرَابِيًّا عَلَى الْبَابِ عَلَى بَعِيرٍ يَسْتَأْذِنُ، فَقُلْتُ: مَنْ أَنْتَ؟ قَالَ: جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيُّ. قَالَ: فَأَشْرَفْتُ عَلَيْهِ فَقُلْتُ: أَنْزِلُ إِلَيْكَ أَوْ تَصْعَدُ؟ فَقَالَ: لَا تَنْزِلُ وَلَا أَصْعَدُ، حَدِيثٌ بَلَغَنِي أَنَّكَ تَرْوِيهِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي سَتْرِ الْمُؤْمِنِ، جِئْتُ أَسْمَعُهُ. قُلْتُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: " «مَنْ سَتَرَ عَلَى مُؤْمِنٍ عَوْرَةً فَكَأَنَّمَا أَحْيَا مَوْءُودَةً» فَضَرَبَ بِعِيرَهُ رَاجِعًا. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ أَبُو سِنَانٍ الْقَسْمَلِيُّ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَابْنُ خِرَاشٍ فِي رِوَايَةٍ، وَضَعَّفَهُ أَحْمَدُ وَالْبُخَارِيُّ وَيَحْيَى بْنُ مَعِينٍ.
رجاء بن حیوہ بیان کرتے ہیں : میں نے حضرت مسلمہ بن مخلد رضی اللہ عنہ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے : " جب میں مصر کا گورنر تھا، تو دربان میرے پاس آیا اور بولا : دروازے پر ایک دیہاتی اپنے اونٹ پر موجود ہے اور اندر آنے کی اجازت مانگ رہا ہے ، میں نے دریافت کیا : تم کون ہو ؟ تو اس نے بتایا : جابر بن عبداللہ انصاری ، حضرت مسلمہ بن مخلد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے اوپر سے جھانک کر انہیں دیکھا اور دریافت کیا : میں نیچے آ جاؤں ؟ یا آپ اوپر آ رہے ہیں ؟ انہوں نے فرمایا : نہ تم نیچے آؤ، نہ میں اوپر آؤں گا ، ایک حدیث کے بارے میں مجھے یہ اطلاع ملی ہے کہ تم اسے اللہ کے رسول کے حوالے سے روایت کرتے ہو اور وہ حدیث مومن کی پردہ پوشی کے بارے میں ہے ، میں اس کو سننے کے لیے آیا ہوں ( حضرت مسلمہ بن مخلد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ) میں نے کہا : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : " جو شخص کسی مومن کے پوشیدہ معاملے کی پردہ پوشی کرتا ہے ، تو وہ گویا ایسی بچی کو زندگی دیتا ہے ، جسے زندہ دفن کیا جاتا تھا " ۔ تو حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے اپنے اونٹ کو مارا اور واپس روانہ ہو گئے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابو سنان قسملی ہے ، جسے ابن حبان نے اور ایک روایت کے مطابق ابن خراش نے ثقہ قرار دیا ہے ، امام احمد امام بخاری اور یحییٰ بن معین نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔
رَسُولِ اللَّهِ ← رسول الله في ستر المؤمن؛ جئتُ أسمعه. قلتُ: ← لا تنزلُ ولا أصعدُ، حديثٌ بلغني أنك ترويه ← فأشرفتُ عليه فقلتُ: أَنْزِلُ إليك أو تصعدُ؟ ← جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الأَنْصَارِيِّ ← إِنَّ أَعْرَابِيًّا عَلَى الْبَابِ عَلَى بَعِيرٍ يَسْتَأْذِنُ، فَقُلْتُ: مَنْ أَنْتَ؟ ← عَلَى مِصْرَ إِذْ أَتَى الْبَوَّابُ، ← بَيْنَا ← مَسْلَمَةَ بْنَ مُخَلَّدٍ ← رَجَاءِ بْنِ حَيْوَةَ،
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The Book of Science] › Chapter of the journey in seeking knowledge] · Hadith 565
