مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الْعِلْمِ] ‹ بَابٌ فِي فَضْلِ الْعَالِمِ وَالْمُتَعَلِّمِ] · حديث 505
505 - وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ مَرَّ بِسُوقِ الْمَدِينَةِ فَوَقَفَ عَلَيْهَا، فَقَالَ: يَا أَهْلَ السُّوقِ، مَا أَعْجَزَكُمْ؟ قَالُوا: وَمَا ذَاكَ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ؟ قَالَ: ذَاكَ مِيرَاثُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُقَسَّمُ وَأَنْتُمْ هَاهُنَا، أَلَا تَذْهَبُونَ فَتَأْخُذُونَ نَصِيبَكُمْ مِنْهُ؟ قَالُوا: وَأَيْنَ هُوَ؟ قَالَ: فِي الْمَسْجِدِ، فَخَرَجُوا سِرَاعًا وَوَقَفَ أَبُو هُرَيْرَةَ لَهُمْ حَتَّى رَجَعُوا، فَقَالَ لَهُمْ: مَا لَكُمْ؟ قَالُوا: يَا أَبَا هُرَيْرَةَ، فَقَدْ أَتَيْنَا الْمَسْجِدَ فَدَخَلْنَا، فَلَمْ نَرَ فِيهِ شَيْئًا يُقَسَّمُ، فَقَالَ لَهُمْ أَبُو هُرَيْرَةَ: وَمَا رَأَيْتُمْ فِي الْمَسْجِدِ أَحَدًا؟ قَالُوا: بَلَى، رَأَيْنَا قَوْمًا يُصَلُّونَ، وَقَوْمًا يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ، وَقَوْمًا يَتَذَاكَرُونَ الْحَلَالَ وَالْحَرَامَ، فَقَالَ لَهُمْ أَبُو هُرَيْرَةَ: وَيْحَكُمْ، فَذَاكَ مِيرَاثُ مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے : ایک مرتبہ وہ مدینہ منورہ کے بازار سے گزر رہے تھے ، وہ ٹھہر گئے ، اور بولے : اے بازار والو ! تم لوگوں کو کس چیز نے عاجز کر دیا ہے ؟ ان لوگوں نے دریافت کیا : اے حضرت ابو ہریرہ کیا ہوا ؟ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اللہ کے رسول کی میراث تقسیم ہو رہی ہے اور تم لوگ یہاں موجود ہو، تم لوگ جا کر اپنا حصہ کیوں نہیں وصول کرتے ہو ؟ لوگوں نے دریافت کیا : وہ کہاں ( تقسیم ہو رہی ) ہے ؟حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے بتایا : مسجد میں تو وہ لوگ جلدی سے چلے گئے ، حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ ان لوگوں کی خاطر وہیں ٹھہرے رہے یہاں تک کہ وہ لوگ واپس آ گئے ، تو حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے ان سے دریافت کیا : کی ہوا ؟ ان لوگوں نے جواب دیا : اے حضرت ابو ہریرہ ! ہم لوگ مسجد گئے ، اس میں داخل ہوئے ، ہمیں اس میں کوئی چیز تقسیم ہوتی دکھائی نہیں دی ، حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے ان سے دریافت کیا : کیا تم نے مسجد میں کسی کو نہیں دیکھا؟ انہوں نے جواب دیا : جی ہاں ! ( یعنی دیکھا ہے ) ہم نے کچھ لوگوں کو دیکھا کہ وہ نماز پڑھ رہے تھے ، اور کچھ لوگ قرآن پڑھ رہے تھے ، اور کچھ لوگ حلال اور حرام کے بارے میں مذاکرہ کر رہے تھے ، تو حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے ان لوگوں سے فرمایا : تمہارا ستیاناس ہو، یہی حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی میراث ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
بَلَى، رَأَيْنَا قَوْمًا يُصَلُّونَ، وَقَوْمًا يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ، وَقَوْمًا يَتَذَاكَرُونَ الْحَلَالَ وَالْحَرَامَ، ← لَهُمْ أَبُو هُرَيْرَةَ: وَمَا رَأَيْتُمْ فِي الْمَسْجِدِ أَحَدًا؟ ← يَا أَبَا هُرَيْرَةَ فَقَدْ أَتَيْنَا الْمَسْجِدَ، فَدَخَلْنَا، فَلَمْ نَرَ فِيهِ شَيْئًا يُقْسَمُ. ← لَهُمْ: «مَا لَكُمْ؟» ← فِي الْمَسْجِدِ، فَخَرَجُوا سِرَاعًا وَوَقَفَ أَبُو هُرَيْرَةَ لَهُمْ حَتَّى رَجَعُوا، ← وَأَيْنَ هُوَ؟ ← ذَاكَ مِيرَاثُ رَسُولِ اللَّهِ يُقَسَّمُ وَأَنْتُمْ هَاهُنَا، أَلَا تَذْهَبُونَ فَتَأْخُذُونَ نَصِيبَكُمْ مِنْهُ؟ ← وَمَا ذَاكَ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ؟ ← «يَا أَهْلَ السُّوقِ، مَا أَعْجَزَكُمْ» ← أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّهُ مَرَّ بِسُوقِ الْمَدِينَةِ، فَوَقَفَ عَلَيْهَا،
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The Book of Science] › Chapter on the Virtue of the Scholar and the Educator] · Hadith 505
