مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الْعِلْمِ] ‹ بَابُ تَرْكِ الْوُضُوءِ مِمَّا مَسَّتِ النَّارُ] · حديث 1316
1316 - «وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: كُنْتُ أَنَا وَأُمِّي وَأَبُو طَلْحَةَ جُلُوسًا، فَأَكَلْنَا لَحْمًا وَخُبْزًا ثُمَّ دَعَوْتُ بِوَضُوءٍ، فَقَالَا: لِمَ نَتَوَضَّأُ؟ فَقُلْتُ: لِهَذَا الطَّعَامِ الَّذِي أَكَلْنَا، فَقَالَا: أَنَتَوَضَّأُ مِنَ الطَّيِّبَاتِ؟ لَمْ يَتَوَضَّأْ مِنْهُ مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنْكَ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں میری والدہ( سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہ) اور حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ بیٹھے ہم نے گوشت اور روٹی کھایا پھر میں نے وضو کاپانی منگوایا تو ان دونوں نے کہا: ہم کیوں وضوکریں؟ میں نے کہا: اس کھانے کی وجہ سے جو ہم نے کھایا ہے ان دونوں نے کہا: کیا ہم پاکیزہ چیز کی وجہ سے وضو کریں گے؟ اس کی وجہ سے اس ہستی (یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ) نے وضو نہیں کیا جو تم سے بہترتھی۔یہ روایت امام احمد نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں۔
لِمَ نَتَوَضَّأُ؟ فَقُلْتُ: لِهَذَا الطَّعَامِ الَّذِي أَكَلْنَا، ← وَأُمِّي وَأَبُو طَلْحَةَ جُلُوسًا، فَأَكَلْنَا لَحْمًا وَخُبْزًا ثُمَّ دَعَوْتُ بِوَضُوءٍ، ← كُنْتُ ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ،
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The Book of Science] › The door of leaving ablution due to what touched the fire] · Hadith 1316
