مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الْعِلْمِ] ‹ بَابٌ فِيمَنْ قَبَّلَ أَوْ لَامَسَ] · حديث 1280
1280 - وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُقَبِّلُ، ثُمَّ يَخْرُجُ إِلَى الصَّلَاةِ وَلَا يُحْدِثُ وُضُوءًا». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ يَزِيدُ بْنُ سِنَانٍ الرَّهَاوِيُّ، ضَعَّفَهُ أَحْمَدُ وَيَحْيَى وَابْنُ الْمَدِينِيِّ، وَوَثَّقَهُ الْبُخَارِيُّ وَأَبُو حَاتِمٍ، وَثَبَّتَهُ مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ مُوَثَّقُونَ.
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی زوجہ محترمہ کا بوسہ لے لیتے تھے اور پھر نماز ادا کرنے کے لیے تشریف لے جاتے تھے' اور از سر نو وضو نہیں کرتے تھے۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے' اس کی سند میں ایک راوی یزید بن سنان رہاوی ہے' جسے امام احمد ' یحییٰ بن معین بن مدینی نے "ضعیف " قرار دیا ہے' جبکہ امام بخاری اور امام ابوحاتم نے اس "ثقہ" قرار دیا ہے' مروان بن معاویہ نے اسے "ثبت"قرار دیا ہے ' اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے۔
«كَانَ رَسُولُ اللَّهِ يُقَبِّلُ، ثُمَّ يَخْرُجُ إِلَى الصَّلَاةِ، وَلَا ← أُمِّ سَلَمَةَ
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The Book of Science] › A chapter with whomever kisses or touches] · Hadith 1280
