مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الْعِلْمِ] ‹ بَابٌ فِي الِاسْتِعَانَةِ عَلَى الْوُضُوءِ] · حديث 1148
1148 - «وَعَنْ أَبِي أَيُّوبَ قَالَ: خَرَجْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حِينَ غَرَبَتِ الشَّمْسُ أَوِ اصْفَرَّتْ لِلْمَغِيبِ وَمَعِي كُوزٌ مِنْ مَاءٍ، فَانْطَلَقَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِحَاجَتِهِ وَقَعَدْتُ أَنْتَظِرُهُ حَتَّى جَاءَ، فَوَضَّأْتُهُ». فَذَكَرَ الْحَدِيثَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبَانَ، وَقَدْ أَجْمَعُوا عَلَى ضَعْفِهِ.
حضرت ابو ایوب رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ اس وقت نکلا جب سورج غروب ہو گیا تھا' یا غروب ہونے کے قریب تھا ' میرے پاس پانی کا ایک برتن تھا ' نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قضائے حاجت کے لیے تشریف لے گئے ' میں آپ کے انتظار میں رہا یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم واپس تشریف لائے ' تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو وضو کروایا ۔۔۔۔۔ اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ' اس کی سند میں ایک راوی عبدلعزیز بن ابان ہے ' جس کے ضعیف ہونے پر محدثین کا اتفاق ہے ۔
أَبِي أَيُّوبَ،
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The Book of Science] › Chapter on Ablution] · Hadith 1148
