مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الْعِلْمِ] ‹ بَابُ فَضْلِ الْوُضُوءِ] · حديث 1124
1124 - وَعَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو أُمَامَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «أَيُّمَا رَجُلٍ قَامَ إِلَى وُضُوئِهِ يُرِيدُ الصَّلَاةَ، ثُمَّ غَسَلَ كَفَّيْهِ نَزَلَتْ كُلُّ خَطِيئَةٍ مِنْ كَفَّيْهِ مَعَ أَوَّلِ قَطْرَةٍ، فَإِذَا مَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ وَاسْتَنْثَرَ نَزَلَتْ كُلُّ خَطِيئَةٍ مِنْ لِسَانِهِ وَشَفَتَيْهِ مَعَ أَوَّلِ قَطْرَةٍ، فَإِذَا غَسَلَ وَجْهَهُ نَزَلَتْ كُلُّ خَطِيئَةٍ مِنْ سَمْعِهِ وَبَصَرِهُ مَعَ أَوَّلِ قَطْرَةٍ، فَإِذَا غَسَلَ يَدَيْهِ إِلَى الْمَرْفِقَيْنِ وَرَجِلْيَهِ إِلَى الْكَعْبَيْنِ سَلِمَ مِنْ كُلِّ ذَنْبٍ كَهَيْأَتِهِ يَوْمَ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ ". قَالَ: " فَإِذَا قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ رَفَعَ اللَّهُ دَرَجَتَهُ، وَإِنْ قَعَدَ قَعَدَ سَالِمًا». رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَفِي إِسْنَادِ أَحْمَدَ عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ بَهْرَامَ عَنْ شَهْرٍ، وَاخْتُلِفَ فِي الِاحْتِجَاجِ بِهِمَا، وَالصَّحِيحُ أَنَّهُمَا ثِقَتَانِ، وَلَا يَقْدَحُ الْكَلَامُ فِيهِمَا.
شہر بن حوشب بیان کرتے ہیں :حضرت ابو امامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مجھے یہ بات بتائی: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: "جو شخص وضو کرنے کے لیے اٹھتا ہے اور وہ نماز ادا کرنے کا ارادہ رکھتا ہے ' پھر وہ اپنی ہتھیلیاں دھوتا ہے ' تو پہلے قطرے کے ساتھ اس کی ہتھیلیوں میں سے ہر گناہ (نازل ہوجاتا 'یعنی) نکل جاتا ہے'جب وہ کلی کرتا ہے اور ناک میں پانی ڈالتا ہے اور ناک صاف کرتا ہے ' تو پہلے قطرےکے ساتھ اس کی زبان اور ہونٹوں سے ہرگناہ نکل جاتا ہے ' جب وہ اپنا چہرہ دھوتا ہے ' تو پہلے قطرے کے ساتھ اس کی سماعت اور بصارت سے ہر گناہ نکل جاتا ہے ' جب وہ کہنیوں تک اپنے دونوں بازو اور ٹخنوں تک 'اپنے دونوں پاؤں دھوتا ہے تو وہ ہر گناہ سے یوں پاک ہو جاتا ہے ' جیسے اس دن تھا' جب اس کی والدہ نے اسے جنم دیا تھا' پھر جب وہ نمازادا کرنے کے لیے کھڑا ہوتا ہے ' تو اللہ تعالیٰ اس کے درجے کوبلند کرتا ہے ' اور اگر وہ بیٹھا رہتا ہے (یعنی اگر وہ نماز ادا نہیں بھی کرتا) تووہ ایسی حالت میں بیٹھا ہوتا ہے' کہ وہ سالم (یعنی گناہوں سےپاک ) ہوتا ہے۔ یہ روایت امام احمدنے اورامام طبرانی نے معجم کبیر اورمعجم اوسط میں نقل کی ہے ' امام احمد کی سند میں یہ مذکور ہے: اسے عبدالحمید بن بہرام نے شہرسے نقل کیا ہے 'اور ان دونوں سے استدلال کرنے کے بارے میں اختلاف کیا گیا ہے ' صحیح یہ ہے کہ یہ دونوں ثقہ ہیں اور ان دونوں کے بارے میں کیاجانے والا کلام'قدح کا باعث نہیں ہے۔
أَبُو أُمَامَةَ ← وَعَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ،
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The Book of Science] › Chapter of the Virtue of Ablution] · Hadith 1124
