32556- قَالَ عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ : وَحَدَّثَنِي خَلِيفَةُ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ : أَنَّ دَاوُد حَدَّثَ نَفْسَهُ إنِ اُبْتُلِيَ أَنْ يَعْتَصِمَ , فَقِيلَ لَهُ : إنَّك سَتُبْتَلَى وَتَعْلَمُ الْيَوْمَ الَّذِي تُبْتَلَى فِيهِ فَخُذْ حِذْرَك ، فَقِيلَ لَهُ : هَذَا الْيَوْمُ الَّذِي تُبْتَلَى فِيهِ , فَأَخَذَ الزَّبُورَ فَوَضَعَهُ فِي حِجْرِهِ وَأَغْلَقَ بَابَ الْمِحْرَابِ وَأَقْعَدَ مَنْصَفًا عَلَى الْبَابِ ، وَقَالَ : لاَ تَأْذَنْ لأَحَدٍ عَلَيَّ الْيَوْمَ. فَبَيْنَمَا هُوَ يَقْرَأُ الزَّبُورَ إذْ جَاءَ طَائِرٌ مُذْهَبٌ كَأَحْسَنِ مَا يَكُونُ الطَّيْرُ , فِيهِ مِنْ كُلِّ لَوْنٍ , فَجَعَلَ يَدْرُجُ بَيْنَ يَدَيْهِ فَدَنَا مِنْهُ , فَأَمْكَنَ أَنْ يَأْخُذَهُ , فَتَنَاوَلَهُ بِيَدِهِ لِيَأْخُذَهُ , فَاسْتَوْفَزَهُ مِنْ خَلْفِهِ , فَأَطْبَقَ الزَّبُورَ وَقَامَ إلَيْهِ لِيَأْخُذَهُ , فَطَارَ فَوَقَعَ عَلَى كُوَّةِ الْمِحْرَابِ , فَدَنَا مِنْهُ أَيْضًا لِيَأْخُذَهُ فَوَقَعَ عَلَى خُصٍ ، فَأَشْرَفَ عَلَيْهِ لِيَنْظُرَ أَيْنَ وَقَعَ فَإِذَا هُوَ بِالْمَرْأَةِ عِنْدَ بِرْكَتِهَا تَغْتَسِلُ مِنَ الْمَحِيضِ ، فَلَمَّا رَأَتْ ظِلَّهُ حَرَّكَتْ رَأْسَهَا فَغَطَّتْ جَسَدَهَا بِشَعْرِهَا ، فَقَالَ دَاوُد لِلْمَنْصَفِ : اذْهَبْ فَقُلْ لِفُلاَنَةَ تَجِيءُ , فَأَتَاهَا فَقَالَ لَهَا : إنَّ نَبِيَّ اللهِ يَدْعُوك ، فَقَالَتْ : مَا لِي وَلِنَبِيِّ اللهِ ؟ إنْ كَانَتْ لَهُ حَاجَةٌ فَلْيَأْتِنِي , أَمَّا أَنَا فَلاَ آتِيهِ , فَأَتَاهُ الْمَنْصَفُ فَأَخْبَرَهُ بِقَوْلِهَا ، فَأَتَاهَا : وَأَغْلَقَتِ الْبَابَ دُونَهُ ، فَقَالَتْ : مَا لَك يَا دَاوُد ، أَمَا تَعْلَمُ إِنَّهُ مَنْ فَعَلَ هَذَا رَجَمْتُمُوهُا وَوَعَظَتْهُ. فَرَجَعَ. وَكَانَ زَوْجُهَا غَازِيًا فِي سَبِيلِ اللهِ , فَكَتَبَ دَاوُد عَلَيْهِ السَّلاَمُ إلَى أَمِيرِ الْمَغْزَى : اُنْظُرْ أُورْيًّا فَاجْعَلْهُ فِي حَمَلَةِ التَّابُوتِ - وَكان حَمَلَةِ التَّابُوتِ : إمَّا أَن يفتح عليهم , وَإمَّا أَن يقتلو - فقدمه في حَمَلَةِ التَّابُوتِ فَقُتِلَ ، فَلَمَّا انْقَضَتْ عِدَّتُهَا خَطَبَهَا فَاشْتَرَطَتْ عَلَيْهِ : إنْ وَلَدَتْ غُلاَمًا أَنْ يَجْعَلَهُ الْخَلِيفَةَ مِنْ بَعْدِهِ , وَأَشْهَدَتْ عَلَيْهِ خَمْسِينَ مِنْ بَنِي إسْرَائِيلَ وَكَتَبَتْ عَلَيْهِ بِذَلِكَ كِتَابًا , فَمَا شَعَرَ لِفِتْنَتِهِ أنَّهُ فُتِنَ ، حَتَّى وَلَدَتْ سُلَيْمَانَ وَشَبَّ , فَتَسَوَّرَ الْمَلكَانُ عَلَيْهِ الْمِحْرَابَ ، فَكَانَ مِنْ شَأْنِهِمَا مَا قَصَّ اللَّهُ وَخَرَّ دَاوُد سَاجِدًا فَغَفَرَ اللَّهُ لَهُ وَتَابَ ، وَتَابَ اللَّهُ عَلَيْهِ. فَطَلَّقَهَا وَجَفَا سُلَيْمَانَ وَأَبْعَدَهُ , فَبَيْنَمَا هُوَ مَعَه فِي مَسِيرٍ لَهُ - وَهُوَ فِي نَاحِيَةِ الْقَوْمِ - إذْ أَتَى عَلَى غِلْمَانٍ لَهُ يَلْعَبُونَ فَجَعَلُوا يَقُولُونَ : يَا لاَ دِّينُ ، يَا لاَ دِّينُ , فَوَقَفَ دَاوُد ، فَقَالَ : مَا شَأْنُ هَذَا يُسَمَّى لاَ دِّينَ ، فَقَالَ : سُلَيْمَانُ وَهُوَ فِي نَاحِيَةِ الْقَوْمِ : أَمَا إِنَّهُ لَوْ سَأَلَنِي عَنْ هَذِهِ لاَخْبَرْته بِأَمْرِهِ ، فَقِيلَ لِدَاوُدَ : إنَّ سُلَيْمَانَ قَالَ كَذَا وَكَذَا , فَدَعَاهُ فَقَالَ : مَا شَأْنُ هَذَا الْغُلاَمِ سُمِّيَ لاَ دِّينَ ؟ فَقَالَ : سَأَعْلَمُ لَك عِلْمَ ذَلِكَ ، فَسَأَلَ سُلَيْمَانُ عَنْ أَبِيهِ كَيْفَ كَانَ أَمْرُهُ ؟ فَقِيلَ لَه : إنَّ أَبَاهُ كَانَ فِي سَفَرٍ لَهُ مَعَ أَصْحَابٍ لَهُ وَكَانَ كَثِيرَ الْمَالِ فَأَرَادُوا قَتْلَهُ , فَأَوْصَاهُمْ ، فَقَالَ : إنِّي تَرَكْت امْرَأَتِي حُبْلَى , فَإِنْ وَلَدَتْ غُلاَمًا فَقُولُوا لَهَا تُسَمِّيهِ لاَ دِّينَ ، فَبَعَثَ سُلَيْمَانُ إلَى أَصْحَابِهِ , فَجَاؤُوا فَخَلاَ بِأَحَدِهِمْ فَلَمْ يَزَلْ حَتَّى أَقَرَّ , وَخَلاَ بِالآخَرِينَ , فَلَمْ يَزَلْ بِهِمْ حَتَّى أَقَرُّوا كُلُّهُمْ , فَرَفَعَهُمْ إلَى دَاوُد فَقَتَلَهُمْ فَعَطَفَ عَلَيْهِ بَعْضَ الْعَطْفِ. وَكَانَتِ امْرَأَةٌ عَابِدَةٌ مِنْ بَنِي إسْرَائِيلَ وَكَانَتْ تَبَتَّلَتْ , وَكَانَتْ لَهَا جَارِيَتَانِ جَمِيلَتَانِ ، وَقَدْ تَبَتَّلَتِ الْمَرْأَةُ لاَ تُرِيدُ الرِّجَالَ ، فَقَالَتْ إحْدَى الْجَارِيَتَيْنِ لِلأُخْرَى : قَدْ طَالَ عَلَيْنَا هَذَا الْبَلاَءُ , أَمَّا هَذِهِ فَلاَ تُرِيدُ الرِّجَالَ , وَلاَ نَزَالُ بِشَرٍّ مَا كُنَّا لَهَا , فَلَوْ أَنَّا فَضَحْنَاهَا فَرُجِمَتْ , فَصِرْنَا إلَى الرِّجَالِ ، فَأَخَذَتَا مَاءَ الْبَيْضِ فَأَتَتَاهَا وَهِيَ سَاجِدَةٌ فَكَشَفَتَا عنها ثَوْبَهَا وَنَضَحَتَا فِي دُبُرِهَا مَاءَ الْبَيْضِ وَصَرَخَتَا : أَنَّهَا قَدْ بَغَتْ , وَكَانَ مَنْ زَنَى مِنْهُمْ حَدُّهُ الرَّجْمُ فَرُفِعَتْ إلَى دَاوُد عَلَيْهِ السَّلاَمُ وَمَاءُ الْبَيْضِ فِي ثِيَابِهَا فَأَرَادَ رَجْمَهَا ، فَقَالَ سُلَيْمَانُ : أَمَا إِنَّهُ لَوْ سَأَلَنِي لاَنْبَأْته , فَقِيلَ لِدَاوُدَ : إنَّ سُلَيْمَانَ قَالَ كَذَا وَكَذَا , فَدَعَاهُ ، فَقَالَ : مَا شَأْنُ هَذِهِ ؟ مَا أَمْرُهَا ؟ فَقَالَ : ائْتُونِي بِنَارٍ فَإِنَّهُ إنْ كَانَ مَاءَ الرِّجَالِ تَفَرَّقَ , وَإِنْ كَانَ مَاءَ الْبَيْضِ اجْتَمَعَ , فَأُتِيَ بِنَارٍ فَوَضَعَهَا عَلَيْهِ فَاجْتَمَعَ فَدَرَأَ عَنْهَا الرَّجْمَ , وَعَطَفَ عَلَيْهِ بَعْضَ الْعَطْفِ وَأَحَبَّهُ. ثُمَّ كَانَ بَعْدَ ذَلِكَ أَصْحَابُ الْحَرْثِ وَأَصْحَابُ الشَّاءِ , فَقَضَى دَاوُد عَلَيْهِ السَّلاَمُ لأَصْحَابِ الْحَرْثِ بِالْغَنَمِ , فَخَرَجُوا وَخَرَجَتِ الرُّعَاءُ مَعَهُمَ الْكِلاَبُ ، فَقَالَ سُلَيْمَانُ : كَيْفَ قَضَى بَيْنَكُمْ ؟ فَأَخْبَرُوهُ ، فَقَالَ : لَوْ وُلِّيت أَمْرَهُمْ لَقَضَيْت بَيْنَهُمْ بِغَيْرِ هَذَا الْقَضَاءِ , فَقِيلَ لِدَاوُدَ : إنَّ سُلَيْمَانَ يَقُولُ كَذَا وَكَذَا , فَدَعَاهُ فَقَالَ : كَيْفَ تَقْضِي ؟ فَقَالَ : أَدْفَعُ الْغَنَمَ إلَى أَصْحَابِ الْحَرْثِ هَذَا الْعَامَ فَيَكُونُ لَهُمْ أَوْلاَدُهَا وَسَلاَهَا وَأَلْبَابُهَا وَمَنَافِعُهَا لهم العام ، وَيَبْذُرُ هَؤُلاَءِ مِثْلَ حَرْثِهِمْ , فَإِذَا بَلَغَ الْحَرْثُ الَّذِي كَانَ عَلَيْهِ أَخَذَ هَؤُلاَءِ الْحَرْثَ وَدَفَعَ هَؤُلاَءِ إلَى هَؤُلاَءِ الْغَنَمَ ، قَالَ : فَعَطَفَ عَلَيْهِ. قَالَ حَمَّادٌ : وَسَمِعْت ثَابِتًا يَقُولُ : هُوَ أُورِيَّا.
32556 - خیف بن ابن عباس سے روایت کرتے ہیں فرمایا کہ حضرت داؤد کے دل میں یہ بات آئی کہ اگر وہ آزمنائش میں ڈالے جائیں گے تو محفوظ رہیں گے ان سے کہا گیا کہ تم عنقریب آزمائش میں ڈالے جاؤ گے او ر تمہیں اس دن کا علم ہو جائے گا جس میں تمہیں آزمائش میں ڈالا جائے گا اس کلیے احتیاط رکھو چنانچہ ان سے کہا گی اکہ آج تمہیں آزمایا جائے گا چنانچہ آہ نے زبو ر پکڑی اور اپنی بگل میں لیاور محراب کا دروازہ بند کر دیا اور دروازے پر خادم کو بٹھایا اور فرمایا کہ آج کسی کو مت آنے دینا۔ چنانچہ آپ زبور پرھ رہے تھے کہایک خوبصورت پرندہ ایا جس میں مختلف رنگ تھے اور وہ آپکے پاس آنے لگا اور قریب ہو گیااور آپ کو اسے اٹھانے کی قدرت ہوگئی آپ نے اس کو ہاتھ میں لینےکا ارادہ کیا تو وہ کود کر اپ کے پیچھے چلا گیا چنانچہ آپ نے زبو ر بند کی اور اس کو پکڑنے کے لئے اٹھے لیکن وہ اڑ کر محراب کے روزن دان پر بیٹھ گیا آپ اس کے قریب ہوئے تو وہ ایک گھونسلے میں داخل ہو گیا آپ نے اس کو جھانکا تاکہ اس کو دیکھیں کہ کہاں گیا ہے اچانک آپ کی نظری ایک عورت پر پڑی جو اپنے حوض کے پاس حیض کا غسل کر رہی تھی جب ا سنے آپ کا سایہ دیکھا تو اپنے سر کو حرکت دی اور اپنے جسم کو اپنے طبالوں سے چھپا لیا ۔ اور اس عورت کا شوہر اللہ کے راستے میں مجاہد تھا چنانچہ حضرت داؤد نے جہاد کے امیر کو حکم دیا کہ اور یا کو حملتہ التابوت میں شامل کرو اور حملتہ بوت وہ فوج تھی جن کو یا فتح حآصل ہوتی یا وہ قتل ہو جاتے تھے چنانچہ اس نے اس کو حملتہ التابو تمیں شامل کر کے آگے بھیج دیا اور وہ قتل ہو گیا جب اس عورت کی عدت ختم ہو گئی تو آپ نے اس کو پیغام دیا اس نے شرط لگائی کہ اگر اس کا لڑکا ہوا تو ا سکو اپنے بعد خیفہ بنائیں گے اور اس پر بنی اسرائیل کے پچاس لوگوں ک وگواہ بنایا اور اس پر ایک تحریر لکھی چنانچہ آپ کو اپنی آزمائش کا احساس ہی نہ ہوا یہاں تک کہ اس نے حضرت سلیمان کو جنا اور وہ جوان ہو گئے پھر دو فرمشتے ان کے پاس محراب پھیلانگ کر آئے اور ان کا قصہ اللہ نے قران میں بیان فرمایا ہے اور داؤد سجدے میں گر گئے چنانچہ ا للہ نے ا ن کی مغفرت فر مادی اور ان کی توبہ قبول فرما لی ۔ چنانچہ انہوں نے اس کو طلاق دے دیا ور سلیمان کو دور کر دیا چنا نچہ اس دوران ایک مرتبہ آپ ایک میدان سے گزر رہے تھے کہ اپنے لڑکوں کے پا س پہنچے جو کہہ رہے تھےاے لادین ! اے لادین ! حضرت داؤد ٹھہر گئے اور پوچھا کہ اس کا نام لادین کیوں رکھا گیا ہے ؟ سلیمان جو ایک کونے میں تھے کہنے لگے کہ اگر مجھ سے پوچھیں تو میں ان کو بتا دوں گا داؤد سے کہاگیا کہ سلیمان اس طرح کہہ رہے ہیں آپ نے ان کو بلایا اور کہا کہ اس لڑکے کا نام لادین کیوں رکھا گیا ہے ؟َ اہوں نے کہا کہ مین آپ کو اس کے بارے میں بتاتا ہوں حضرت سلیمان نے اس سے اس کے والد کے قصے کے بارے میں پوچھا تو ان ک و بتایا گیا کہ اس کے والد اپنے ساتھیوں کے ساتھ ایک سفرپر گئے تھے اور وہ بہت مالدار تھے لوگوں نے ان کو قتل کر نے کا اردہ کیا تو انہوں نے ان کو وصیت کی کہ میں نے اپنی بیوی کوحاملہ چھوڑا ہے اگر وہ لڑکا جنے گا تو اس سے کہنا کہ اس کا نام لادین رکھے چنانچہ حضرت علیمان نے اس کے ساتھیوں کو بلایا وہ آئے تو انہوں نے ان میں سے ایک کے ساتھ خلوت کی اور ا س سے بات کرتے رہے یہاں تک کہ اس نے اقرار کر لی ااور دوسروں کے ساتھ خلوت کی تو ان سے باتیں کرتے رہے یہاں تک ہ سب نے اقرار کر لیا۔ اس کے بعد کھیت والوں اور بکریوں والوں کا قصہ پیش ایا حضرت داؤد نے کھیت والوں کے لیے بکریوں کا فیصلہ فرما دیا وہ نکلے جن کے ساتھ کتے تھے چنانچہ حضرت سلیمان نے ان سے کہا کہ انہوں نے تمہارے درمیان کیا فیصلہ کیا ہے ؟ انہوں نے بتایا تو آپ نے کہا کہ اگر ان کا معاملہ میرے سپر د ہوتا تو میں ان کے درمیان کوئی اور فیصلہ کرنا حضرت داؤد کو یہ بات بتائی گئی تو انہوں نے ان کو بلایا اور پوچھا کہ آپ کیسے فیصلہ کریں گے ؟ انہو ں نے کہا کہ میں اس سال کے لئے کھیت والون کی بکریاں دوں گا اور ان کے بچے اور دودھ اور منافع اس سال ان کو ملیں گے اور یہ لوگ ان کے لئے ان کے کھیت میں بیچ ڈالیں گے جب پہلے کی طرح کھیت ہو جائے تو یہ لوگ کھیت لے لیں اور ان کی بکریاں دے دکں کہتے ہیں کہ اس کے بعد آپ ان پر مہرا بان ہو گئے ۔
ابْنِ عَبَّاسٍ، ← خَلِيفَةُ، ← عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ
Musannaf Ibne Abi Shaibah · 30- The Book of Virtues › 10- The commandment of David, upon him be peace and humility. · Hadith 32556