مصنف ابن أبي شيبة · کتاب ‹ 617- في فعل النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم. · حديث 7238
7238- حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا الأَعْمَشُ ، عَنْ إبْرَاهِيمَ ، عَنِ الأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ لَمَّا مَرِضَ رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم مَرَضَهُ الَّذِي مَاتَ فِيهِ جَاءَ بِلاَلٌ يُؤْذِنُهُ بِالصَّلاَة ، فَقَالَ : مُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ قُلْنَا يَا رَسُولَ اللهِ إنَّ أَبَا بَكْرٍ رَجُلٌ رَقِيقٌ أَسِيفٌ وَمَتَى يَقُومُ مَقَامَك يَبْكِي فَلاَ يَسْتَطِيعُ فَلَوْ أَمَرْت عُمَرَ ، فَقَالَ : مُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ فَإِنَّكُنَّ صَوَاحِبَاتُ يُوسُفَ فَأُرْسَلَ إلَى أَبِي بَكْرٍ فَصَلَّى بِالنَّاسِ فَوَجَدَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم مِنْ نَفْسِهِ خِفَّةً فَخَرَجَ إلَى الصَّلاَة يُهَادَى بَيْنَ رَجُلَيْنِ وَرِجْلاَهُ تَخُطَّانِ فِي الأَرْضِ ، فَلَمَّا أَحَسَّ بِهِ أَبُو بَكْرٍ ذَهَبَ يَتَأَخَّرُ فَأَوْمَأَ إلَيْهِ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم أَنْ مَكَانَك ، قَالَتْ : فَجَاءَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَجَلَسَ إلَى جَنْبِ أَبِي بَكْرٍ ، فَكَانَ أَبُو بَكْرٍ يَأْتَمُّ بِالنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَالنَّاسُ يَأْتَمُّونَ بِأَبِي بَكْرٍ.
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ فرماتی ہیں کہ نبی کریمصلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے مرض الوفات میں حضرت بلال رضی اللہ عنہ آپ کو نماز کی اطلاع دینے حاضر ہوئے تو آپ نے فرمایا کہ ابو بکر سے کہو کہ وہ نماز پڑھائیں۔ ہم نے کہا یا رسول الله ! ابو بکر تو ایک نرم دل اور رقیق القلب آدمی ہیں، وہ جب آپ کی جگہ کھڑے ہوں گے تو ان سے برداشت نہ ہوگا اور وہ رونے لگیں گے۔ بہتر ہے کہ آپ حضرت عمر کونماز کا حکم دے دیں ۔ نبی پاک صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ ابوبکر کو ہی کہو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں ۔ تو تم تو حضرت یوسف ؑ کے پاس موجود عورتوں کی طرح ہو۔ پس حضرت ابو بکر جانور کو پیغام دیا گیا اور انہوں نے لوگوں کو نماز پڑھائی۔ کچھ دیر بعد نبی پاک صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بدن مبارک میں کچھ خفت محسوس کی تو آپ دو آدمیوں کے سہارے نماز کے لئے تشریف لے گئے۔ اس وقت آپ کے دونوں پائوں زمین پر گھسٹ رہے تھے۔ جب حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی آمد کومحسوس کیا تو پیچھے ہٹنے لگے۔ نبی پاک صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں اشارہ فرمایا کہ اپنی جگہ کھڑےرہیں ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ فرماتی ہیں کہ نبی پاک صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کے ساتھ بیٹھ گئے، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی اقتداء کرتے تھے اور لوگ حضرت ابو بکررضی اللہ عنہ کی اقتداء کرتے تھے۔
"مُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ". قُلْنَا: ← لَمَّا مَرِضَ رَسُولُ اللهِ مَرَضَهُ الَّذِي مَاتَ فِيهِ جَاءَ بِلاَلٌ يُؤْذِنُهُ بِالصَّلاَة ← عَائِشَةَ ← الْأَسْوَدِ، ← إِبْرَاهِيمَ، ← الْاَعْمَشِ ← وَكِيعٌ،
Musannaf Ibne Abi Shaibah · 3- The Book of Prayer › 617- In the act of the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him. · Hadith 7238
