مصنف ابن أبي شيبة · 4- كتاب الصّيام ‹ 119- مَا قَالُوا فِيهِ ، إذَا وَاقَعَ امْرَأَتَهِ فِي رَمَضَانَ. · حديث 9879
9879- حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ، فَقَالَ : هَلَكْتُ ، قَالَ : وَمَا أَهْلَكَكَ ؟ قَالَ : وَقَعْت عَلَى امْرَأَتِي فِي رَمَضَانَ ، قَالَ : أَعْتِقْ رَقَبَةً ، قَالَ : لاَ أَجِدُ ، قَالَ : فَصُمْ شَهْرَيْنِ ، قَالَ : لاَ أَسْتَطِيعُ ، قَالَ : فَأَطْعِمْ سِتِّينَ مِسْكِينًا ، قَالَ : لاَ أَجِدُ ، قَالَ : اجْلِسْ فَجَلَسَ ، فَبَيْنَمَا هُوَ كَذَلِكَ إذْ أُتِيَ رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم بِعَرَقٍ فِيهِ تَمْرٌ ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم : اذْهَبْ فَتَصَدَّقْ بِهِ ، قَالَ : وَالَّذِي بَعَثَك بِالْحَقِّ مَا بَيْنَ لاَبَتَيْهَا أَهْلُ بَيْتٍ أَفْقَرُ إلَيْهِ مِنَّا ، قَالَ : فَضَحِكَ رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم حَتَّى بَدَتْ أَنْيَابُهُ ، ثُمَّ قَالَ : انْطَلِقْ ، فَأَطْعِمْهُ عِيَالَك.
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے عرض کیا کہ میں ہلاک ہوگیا ۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے پوچھا کہ تمہیں کس چیز نے ہلاک کر دیا؟ اس نے کہا کہ رمضان میں ، میں اپنی بیوی سے جماع کر بیٹھا ۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ ایک غلام آزاد کرو۔ اس نے کہا کہ میرے پاس تو کوئی غلام نہیں ۔ آپ نے فرمایا کہ دو مہینے کے روزے رکھو۔ اس نے کہا۔ میں اس کی طاقت نہیں رکھتا ۔ آپ نے فرمایا کہ ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلاؤ۔ اس نے کہا کہ میں اس کی بھی طاقت نہیں رکھتا ۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے فرمایا کہ بیٹھ جاؤ۔ وہ بیٹھ گیا۔ اتنی دیر میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس کجھوروں کا ایک ٹوکرا لایا گیا۔آپ نے فرمایا کہ یہ لے جاؤ اسے صدقہ کردو۔ اس شخص نے کہا کہ اس ذات کی قسم ! جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا ، مدینہ کی دو پہاڑیوں کے درمیان مجھ سے زیادہ تادار گھر کسی کا نہیں ۔ اس کی یہ بات سن کر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اتنا مسکرائے کہ آپ کے دندان مبارک نظر آنے لگے۔ پھر آپ نے فرمایا کہ جاؤ اپنے گھر والوں کو یہ کھلا دو۔
انْطَلِقْ فَأَطْعِمْهُ عِيَالَك. ← فَضَحِكَ رَسُولُ اللهِ حَتَّى بَدَتْ أَنْيَابُهُ ثُمَّ ← وَالَّذِي بَعَثَك بِالْحَقِّ مَا بَيْنَ لاَبَتَيْهَا أَهْلُ بَيْتٍ أَفْقَرُ إلَيْهِ مِنَّا ← لَهُ النَّبِيُّ اذْهَبْ فَتَصَدَّقْ بِهِ ← اجْلِسْ فَجَلَسَ فَبَيْنَمَا هُوَ كَذَلِكَ إذْ أُتِيَ رَسُولُ اللهِ بِعَرَقٍ فِيهِ تَمْرٌ ← لا أجد ← فَأَطْعِمْ سِتِّينَ مِسْکِينًا ← لَا أَسْتَطِيعُ ← "فصم شهرين". ← لا أجد ← «أَعْتِقْ رَقَبَةً» ← وَقَعْتُ عَلَی امْرَأَتِي فِي رَمَضَانَ ← «وَمَا أَهْلَكَكَ؟» ← هلكت ← جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← حُمَيْدٍ ← الزُّهْرِيِّ، ← ابْنُ عُيَيْنَةَ،
Musannaf Ibne Abi Shaibah · 4- Book of fasting › 119 - What they said about him, if he makes his wife fall in Ramadan. · Hadith 9879
