مصنف ابن أبي شيبة · 10- كتاب الطَّلاَقِ ‹ 195 - مَا قَالُوا فِي أُمِّ الْوَلَدِ ، يَمُوتُ عَنْهَا وَهِيَ حَامِلٌ ، مِنْ أَيْنَ يُنْفَقُ عَلَيْهَا ؟. · حديث 19330
19330- حَدَّثَنَا إسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ , عَنْ يُونُسَ ، أن ابْنَ سِيرِينَ قَالَ : كَانَ يَرَى لِكُلِّ حَامِلٍ نَفَقَةً قَالَ : فولي أُمِّ وَلَدٍ يَعْلَى بْنُ خَالِدٍ ، فَكَانَ يَرَى لَهَا النَّفَقَةَ فَكَرِهَ أَنْ يُنْفِقَ دُونَ الْقَاضِي , فَأَرْسَلَ إلَى عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ يَعْلَى فَمَنَعَهَا هو , قَالَ : كَانَ الْحَسَنُ يَقُولُ : يُنْفَقُ عَلَيْهَا فَإِنْ وَلَدَتْهُ حَيًّا فَنَفَقَتُهَا مِنْ نَصِيبِ وَلَدِهَا , وَإِنْ وَلَدَتْهُ مَيِّتًا أُلْغِيَ ذَلِكَ.
حضرت ابن سیرین رحمتہ اللہ علیہ ہر حاملہ کے لیئے نفقہ کے قائل تھے ۔یعلی بن خالد کی ام ولد کے لیئے انہوں نے نفقہ کی رائے دی تھی لیکن وہ اس بات کو مکروہ خیا ل فرماتے تھے کہ ام ولد اپر قاضی کے بغیر خرچ کیا جائے ۔انہوں نے عبدالملک بن یعلی کی طر ف پیغام بھیجا تو انہوں نے نفقہ سے منع کر دیا ۔حضرت حسن فرمایا کرتے تھے کہ اس پر خرچ کیا جائے گا۔اگر زندہ بچے کو جنم دے تو اس کا نفقہ بچے کے حصے میں سے ہو گا اور اگر وہ مردہ بچے کو جنم دے تو اسے لغو قرار دے دیا جائے گا۔
يُونُسَ ← إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ،
Musannaf Ibne Abi Shaibah · 10 - The Book of Divorce › 195 - What did they say about the mother of the child, who dies from her while she is pregnant, where does he spend on it? · Hadith 19330
