مصنف ابن أبي شيبة · 9- كِتَابُ النِّكَاحِ ‹ 63- في رجل تَزَوَّجَ ابْنَةً لِرَجُلٍ فَزُفَّتْ إلَيْهِ ابْنَةٌ لَهُ أُخْرَى. · حديث 16617
16617- حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ الْعَمِّيُّ , عَنْ بُدَيْلِ بْنِ مَيْسَرَةَ الْعُقَيْلِيِّ , عَنِ أَبِي الْوَضِينِ أَنَّ رَجُلاً تَزَوَّجَ إلَى رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ الشَّامِ بنتا لَهُ ابْنَةَ مَهِيرَةٍ فَزَوَّجَهُ وَزَفَّ إلَيْهِ ابْنَةً لَهُ أُخْرَى بنت فَتَاة فَسَأَلَهَا الرَّجُلُ بَعْدَ مَا دَخَلَ بِهَا : ابْنَةُ مَنْ أَنْتِ ؟ قَالَتْ : ابْنَةُ الفَتَاةَ تَعْنِي فُلاَنَةَ ، فَقَالَ : إنَّمَا تَزَوَّجْت إلَى أبيك ابنته ابْنَةِ الْمَهِيرَةِ فَارْتَفَعُوا إلَى مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ , فَقَالَ : امْرَأَةٌ بِامْرَأَةٍ وَسَأَلَ مَنْ حَوْلَهُ مِنْ أَهْلِ الشَّامِ , فَقَالَ : امْرَأَةٌ بِامْرَأَةٍ , فَقَالَ الرَّجُلُ : لمُعَاوِيَةُ ، ارْفَعْنَا إلَى عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ , فَقَالَ : اذْهَبُوا إلَيْهِ فَأَتَوْا عَلِيًّا فَرَفَعَ عَلِيٌّ مِنَ الأَرْضِ شَيْئًا , فَقَالَ : الْقَضَاءُ فِي هَذَا أَيْسَرُ مِنْ هَذَا ، لِهَذِهِ مَا سُقْتَ إلَيْهَا بِمَا اسْتَحْلَلْتَ مِنْ فَرْجِهَا وَعَلَى أَبِيهَا أَنْ يجهز الأُخْرَى بِمَا سُقْتَ إلَى هَذِهِ وَلاَ تَقْرَبْهَا حَتَّى تَنْقَضِيَ عِدَّةُ هَذِهِ الأُخْرَى ، قَالَ : وَأَحْسَبُ أَنَّهُ جَلَدَ أَبَاهَا ، أَوْ أَرَادَ أَنْ يَجْلِدَهُ.
حضرت ابو الوضین فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ ایک آدمی نے شام کے ایک شخص کی بیٹی جس کی کنیت " ابنۃ مہیرۃ" ( مہیرہ کہنے کی وجہ اس کے مہر کا زیادہ ہونا تھا) تھی، نکاح کیا۔ لیکن زفاف میں اسے ایک دوسری بیٹی پیش کر دی گئی جس کی کنیت " ابنۃ فتاۃ" (اس کا مہر کم تھا ) تھی۔ جب اس رات آدمی نے اس لڑکی سے جماع کر لیا تو پوچھا " تو کون ہے" ا س نے کہا میں ابنتہ فتاۃہوں۔ اس آدمی نے کہا تمہارے باپ نے تو میری شادی " ابنۃ مہیرہ " سے کی تھی ۔ پس یہ لوگ اپنا مقدمہ لے کر حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے ۔ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ عورت کے بدلے عورت ہوگئی لہذا کوئی جھگڑا نہیں۔ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے اپنے پاس موجود شامی علماء سے اس بارے میں مشورہ کیا تو انہوں نے بھی یہی فتویٰ دیا ۔ پھر اس آدمی نے کہا کہ میں یہ قضیہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پا س لے جانا چاہتا ہوں ۔ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے اس کی اجازت دے دی ۔ مقدمہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں پیش کیا گیا تو آپ نے زمین سے کوئی معمولی سی چیز اٹھائی اور فرمایا کہ میرے لئے اس کا فیصلہ کرنا اس چیز سے بھی زیادہ معمولی ہے ۔ اس عورت کو تو اتنا مہر ملے گا جو تونے اس کی شرمگاہ کو حلال کرنے کے لئے اسے ادا کیا ہے۔ اور اس کے باپ پر لازم ہے کہ دوسری بیٹی کو وہ مال دے جو تو نے اسے ادا کیا ہے اور تو اس کے قریب اس وقت تک نہ جانا جب تک پہلی لڑکی عدت نہ گزار لے۔ راوی کہتے ہیں کہ میرے خیال میں حضرت علی رضی اللہ عنہ نے لڑکی کے والد کو کوڑے لگوائے یا کوڑے لگوانے کا ارادہ فرمایا۔
أَبِي الْوَضِينِ ← بُدَيْلِ بْنِ مَيْسَرَةَ الْعُقَيْلِيِّ، ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ الْعَمِّيُّ،
Musannaf Ibne Abi Shaibah · 9- The book of marriage › 63- In a man who married a daughter to a man, another daughter had a marriage to him. · Hadith 16617
