مصنف ابن أبي شيبة · 9- كِتَابُ النِّكَاحِ ‹ 120 - في الرجل تَكُونُ تَحْتَهُ الْمَرْأَةُ فَيُطَلِّقُهَا فَيَتَزَوَّجُ أُخْتَهَا فِي عِدَّتِهَا. · حديث 17018
17018- حَدَّثَنَا حَفْصٌ , عَنْ أَشْعَثَ , عَنِ الْحَكَمِ , عَنْ عَلِيٍّ أَنَّهُ سُئِلَ عَنْ رَجُلٍ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ فَلَمْ تَنْقَضِ عِدَّتُهَا حَتَّى تَزَوَّجَ أُخْتَهَا ، فَفَرَّقَ عَلِيٌّ بَيْنَهُمَا وَجَعَلَ لَهَا الصَّدَاقَ بِمَا اسْتَحَلَّ مِنْ فَرْجِهَا وَقَالَ : تُكْمِلَ الأُخْرَى عِدَّتُهَا وَهُوَ خَاطِبُ فإنْ كَانَ دَخَلَ بِهَا فَلَهَا الصَّدَاقُ كَامِلاً وَعَلَيْهَا الْعِدَّةُ كَامِلَةً وَتَعْتَدَّانِ مِنْهُ جَمِيعًا , كُلُّ وَاحِدَةٍ ثَلاَث قُرُوءٍ , فَإِنْ كَانَتَا لاَ تَحِيضَانِ فَثَلاَثَةَ أَشْهُرٍ.
حضرت حکم فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے سوال کیا گیا کہ ایک آدمی نے کسی عورت کو طلاق دی اور اس کی عدت میں اس کی بہن سے شادی کر لی ، اس کا کیا حکم ہے ؟ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے دونوں کے درمیان جدائی کر ا دی اور مہر کے ذمہ لازم رکھا۔ اور فرمایا کہ جب پہلی بیوی عدت پوری کر لے تو یہ نکاح کا پیغام بھیجے اگر اس نے دخول کیا ہے تو پورا مہر واجب ہوگا اور عورت پر پوری عدت ہوگی اور وہ دنوں عدت گزاریں گی اور ہر ایک کی عدت تین حیض ہو گی اگر انہیں حیض نہ آتا ہو تو تین مہینے تک عدت گزاریں گی ۔
عَلِيٍّ أَنَّهُ سُئِلَ ← الْحَكَمِ ← أَشْعَثَ، ← حَفْصٌ،
Musannaf Ibne Abi Shaibah · 9- The book of marriage › 120 - In a man, a woman will be under him, so he will divorce her, so her sister will marry her in her kit. · Hadith 17018
