مصنف ابن أبي شيبة · 6- كِتَابُ الْجَنَائِزِ ‹ 198- من رخص فِي البكاءِ على الميِّتِ. · حديث 12250
12250- حدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ، قَالَ دَمَعَتْ عَيْنُ رَسُولِ اللهِ صلى الله عليه وسلم حِينَ أُتِيَ بِابْنَةِ زَيْنَبَ وَنَفْسُهَا تَقَعْقَعُ : كأَنَّهَا فِي شَنٍّ ، قَالَ فَبَكَى ، قَالَ : فَقَالَ لَهُ : رَجُلٌ تَبْكِي وَقَدْ نَهَيْتَ عَنِ الْبُكَاءِ ، فَقَالَ : إنَّمَا هَذِهِ رَحْمَةٌ جَعَلَهَا اللَّهُ فِي قُلُوبِ عِبَادِهِ وَإِنَّمَا يَرْحَمُ اللَّهُ مِنْ عِبَادِهِ الرُّحَمَاءَ.
حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس جب حضرت زینب رضی اللہ عنہ کی بیٹی کو لایا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی آنکھوں میں آنسو آ گئے، حضرت زینب رضی اللہ عنہ کا سانس اکھڑ رہا تھا، گویا کہ وہ بڑھاپے میں ہیں ، یہ حالت دیکھ کر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم رو پڑے، ایک شخص نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم آپ رو رہے ہیں حالانکہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے تو رونے سے منع کیا ہوا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: یہ تو رحمت (کے آنسو ) ہیں جو اللہ تعالی نے اپنے بندوں کے دلوں میں رکھی ہے۔یک انتہ پاک اس پر رحم کہتا ہے جو اس کے بندوں پر رحم کرنے والا ہو۔
أَسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ← أَبِي عُثْمَانَ ← عَاصِمٍ، ← أَبُو مُعَاوِيَةَ
Musannaf Ibne Abi Shaibah · 6- Book of Funerals › 198- Someone crying in tears for the dead. · Hadith 12250
